اسلام آباد: ایف بی آر نے نان فائلر کی کیٹگری ختم کردی، نان فائلرز کیلئے اضافی ٹیکس دے کر گاڑی اور گھر خریدنے کی سہولیات بھی ختم کردیں۔
تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کے ترجمان بختیار محمد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران کہا کہ ملک بھر میں نان فائلر کی کیٹگری ختم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ نان فائلرز کی اضافی ٹیکس دینے پر گاڑی خریدنے کی سہولت ختم کردی گئی ہے۔
ترجمان ایف بی آر بختیار محمد نے مزید کہا کہ ہر پاکستانی نان فائلر نہیں ہے بلکہ نان فائلر ہر وہ شہری ہے جو ماہانہ 50 ہزار روپے کماتا ہے اور گوشوارے جمع نہیں کرواتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ نان فائلرز کی سم بلاک کرنے کی بڑی کارروائیاں بھی ہوں گی۔
بختیار محمد نے کہا کہ ایف بی آر کے ان فیصلوں پر یکم اکتوبر سے عملدرآمد نہیں ہوگا۔ کچھ وقت لگے گا۔ ایف بی آر نے پالیسی بنا لی ہے لیکن عملدرآمد کیلئے وقت درکار ہے۔ نان فائلرز کیلئے پابندیوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ نان فائلرز کی کیٹگری ختم کردی جائے گی۔
دوسری جانب نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے نان فائلرز کے خلاف کمر کس لی ہے اور اب 15 قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی تیاری جاری ہے، جن میں سے پہلی دو پابندیاں پہلے ہی بیان کی جاچکی ہیں، تاہم یہاں دوبارہ ان کا ذکر آئے گا:
جائیداد کی خریداری: نان فائلرز جائیداد خرید نہیں سکیں گے۔ انہیں پہلے فائلر بننا ہوگا اور اپنی آمدنی کا مکمل حساب دینا ہوگا۔
گاڑیوں کی خریداری: نان فائلرز کے لیے گاڑیاں خریدنے پر پابندی ہوگی۔ صرف فائلرز جن کی سالانہ آمدنی 10 ملین (1 کروڑ) روپے سے زیادہ ہوگی، انہیں گاڑی خریدنے کی اجازت ہوگی۔
سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری: نان فائلرز اسٹاک مارکیٹ یا دیگر سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے۔
میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری: نان فائلرز میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کرنے سے محروم ہوں گے جب تک کہ وہ فائلرز نہ بن جائیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے: نان فائلرز کو کرنٹ بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
بینک اکاؤنٹس کے ذریعے زیادہ کیش نکالنا (3 کروڑ روپے سے زائد): نان فائلرز کے لیے بینکوں سے سالانہ 3 کروڑ روپے سے زیادہ رقم نکالنے پر پابندی ہوگی۔
چیک کے ذریعے کیش نکالنے پر پابندیاں: چیک کے ذریعے بڑی رقم کیش کرنے کی اجازت فائلرز تک محدود ہوگی۔ چیک کے ذریعے 3 کروڑ روپے سے زیادہ کی سالانہ رقم نکالنے پر مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔
غیر مذہبی مقاصد کے لیے سفر: نان فائلرز کے لیے غیر مذہبی مقاصد جیسے تفریحی یا کاروباری سفر پر پابندی ہوگی۔
کم آمدنی ظاہر کرنے پر جائیداد ضبطی: اگر کوئی فائلر اپنی جائیداد کی قیمت مارکیٹ ویلیو سے کم ظاہر کرے گا، تو حکومت اس جائیداد کو ضبط کر سکے گی۔
کارپوریٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری پر پابندیاں: نان فائلرز کو کارپوریٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مالی لین دین پر اضافی ود ہولڈنگ ٹیکس: نان فائلرز پر مالی لین دین کے دوران ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح فائلرز سے زیادہ ہوگی، جس سے ان کی مالی سرگرمیاں مزید مہنگی ہو جائیں گی۔
ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے والوں کو اضافی ٹیکس دینا ہوگا: نان فائلرز کو ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے پر اضافی ٹیکس کا سامنا کرنا ہوگا۔
ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے پر سزا: نان فائلرز پر جرمانے عائد کیے جائیں گے اور انہیں مختلف مالی اور کاروباری سرگرمیوں سے محروم رکھا جائے گا۔
ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ: نان فائلرز کی جانب سے مالی لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح زیادہ ہوگی۔
نان فائلرز کی کاروباری سرگرمیوں پر پابندی: نان فائلرز کسی بھی قسم کی بڑی کاروباری سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے جب تک کہ وہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہو جائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








