ہماری کہکشاں ملکی وے سمیت کائنات میں جتنی بھی کہکشائیں موجود ہیں، زیادہ تر ان کے مرکز میں ایک بلیک ہول موجود ہوتا ہے جبکہ دو بلیک ہولز کا تصادم کائنات کے نایاب ترین واقعات میں شامل ہے جس کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ماہرین نے دنیا میں پہلی بار دو بلیک ہولز کے آپس میں ٹکرانے سے متعلق حقائق کا قریب سے جائزہ لیا ہے۔ ماہرینِ فلکیات وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی تیز ترین ترقی کے باعث خلا کو پہلے سے کہیں زیادہ تفصیل کے ساتھ دیکھ لیتے ہیں۔
حال ہی میں ماہرین نے ایک بہت بڑے بلیک ہول اور دوسرے بلیک ہول کے تصادم کے امکانات کا جائزہ لیا۔ ماہرین اس ممکنہ تصادم کو ایک ایسی فلکیاتی دریافت قرار دے رہے ہیں جو کہکشاؤں میں ضم ہونے والے بڑے بلیک ہولز کی پہلی مثال ہوگی۔
بلیک ہولز کے تصادم کا یہ واقعہ دو بونی کہکشاؤں کے مابین ہونے والا ہے جو ہماری کہکشاں ملکی وے سے 76کروڑ نوری سال اور 3اعشاریہ 2ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں۔ بلیک ہولز کا یاک جوڑا ابیل 175ایٹ ایس کہکشاں جبکہ دوسرا ابیل 133 نامی کہکشاں میں ہے۔
دونوں جوڑے تصادم کی حالت میں ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ہی کہکشاؤں میں دو دو بلیک ہولز کی ایک بڑے بلیک ہولز میں تبدیلی کا خدشہ ہے۔ واقعے کا مشاہدہ ناسا کی چندرا ایکس رے آبزرویٹری نے کیا اور بتایا ہے کہ یہ بلیک ہولز اپنے اردگرد موجود مواد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔
سائنسدانوں نے بلیک ہولز کے کئی جوڑوں کو شناخت کیا ہے تاہم مذکورہ بالا دونوں جوڑے ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں جس سے دونوں کے مابین قریبی تصادم کا خدشہ ہے۔ ان کی دریافت مختلف ٹیلی اسکوپس اور ڈیٹا کے ذریعے کی گئی ہے تاہم یہ تصادم لاکھوں یا کروڑوں سال کے بعد بھی ہوسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








