حکومت پاکستان نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ زرعی اور تجارتی صارفین کے لیے ایک بڑا ریلیف پیکیج منظور کر لیا ہے جس کے تحت اگست 2025 کے بجلی بل دسمبر تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔
پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق ان بلوں کی ادائیگی جنوری سے جون 2026 تک آسان قسطوں میں کی جا سکے گی۔
یہ اقدام حکومت کی اس امدادی مہم کا حصہ ہے جس کے تحت گھریلو اور تجارتی صارفین کو مجموعی طور پر 17 ارب روپے کے بلوں میں ریلیف دیا گیا ہے۔
اس میں 11 ارب روپے کی معافی گھریلو صارفین کے لیے جبکہ 6 ارب روپے کے بل تجارتی اور زرعی صارفین کے لیے مؤخر کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے سے 25 لاکھ صارفین براہِ راست مستفید ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق جن گھریلو صارفین نے اگست کے بل پہلے ہی ادا کر دیے تھے، انہیں رقم واپس کر دی گئی ہے، جب کہ تجارتی اور زرعی صارفین کو چار ماہ تک بلوں کی ادائیگی سے استثنا دیا گیا ہے۔
تجارتی صارفین کے لیے مؤخر شدہ رقم جنوری سے جون تک ان کے ماہانہ بلوں میں ایک مقررہ اضافی رقم کی صورت میں شامل کی جائے گی۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد سیلاب سے متاثرہ عوام اور کاروباروں پر مالی بوجھ کو کم کرنا ہے تاکہ وہ معمولاتِ زندگی بحال کرنے کے بعد بتدریج اپنی ادائیگیاں شروع کر سکیں۔
یہ ا قدام نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے وقتی سہولت فراہم کرے گا بلکہ معیشت کی بحالی کے عمل میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








