اسلام آباد: مذہبی جماعتوں کے علما نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ جو راول ڈیم چوک کے قریب شہید کی جانیوالی مدنی مسجد کو بحال کرنے کے لیے 48 گھنٹوں کے اندر پیش رفت کی جائے بصورتِ دیگر وہ خود مسجد کی تعمیر نو شروع کر دیں گے۔
پیر کے روز انہدام کے مقام پر علما اور مذہبی کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں اس اقدام کی سخت مذمت کی گئی۔
علما کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے قائم مساجد کو گرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جبکہ متعدد سرکاری دفاتر سبز پٹیوں پر تعمیر ہیں لیکن انہیں کسی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) اسلام آباد کے امیر مفتی اویس عزیز نے مظاہرین سے خطاب میں اعلان کیا کہ مسجد کے انہدام کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کرایا جائے گا اور اگر پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا تو انہیں دشمنانِ اسلام قرار دیا جائے گا۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اتوار کے روز مسجد کی مسماری کے بعد مذہبی جماعتوں نے سڑکوں پر احتجاج شروع کیا۔ کشیدہ حالات کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے علما کے ایک وفد سے ملاقات کی۔
طلال چوہدری نے مسجد اور مدرسوں کے انہدام سے متعلق غلط خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلے ہی مدرسے کے لیے متبادل جگہ فراہم کر چکی ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مسجد سے متعلق آئندہ کوئی بھی فیصلہ علما سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
سیاسی اور مذہبی حلقوں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف دارالحکومت کی امن و امان کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتا ہے بلکہ حکومت اور مذہبی جماعتوں کے تعلقات میں مزید تناؤ بھی پیدا کر سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








