وفاقی حکومت نے خراب ملکی معاشی حالات کے پیش نظر وزرا اور سرکاری افسران کے بیرون ملک سفر کے متعلق نئی سفری پالیسی جاری کردی۔
کابینہ کے فیصلوں کی روشنی میں جاری کردہ سفری پالیسی کے مطابق سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں کے دوران فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ معاون اسٹاف کے بیرون ملک سفر کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
نئی پالیسی میں ناگزیر صورتحال نہ ہونے پر بیرون ملک سفر کی اجازت کفایت شعاری کمیٹی سے لینا لازمی قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ وفاقی وزیر اور سیکرٹری کے ایک ہی وقت بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، پابندی سے استثنیٰ کے لیے متعلقہ وزیر یا ڈویژن کو وزیراعظم سے اجازت لینا ہوگی۔
دستاویزات کے مطابق وفاقی وزیر، وزیر مملکت، مشیر اور معاونین سال میں بیرون ملک کے 3 دورے کرنے کے مجاز ہوں گے لیکن وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کو اس پابندی سے استثنیٰ ہوگا۔
دستاویزات کے مطابق صدر، چیف جسٹس، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس فرسٹ کلاس سفری سہولیات کے مجاز ہوں گے جبکہ وزیر اعظم، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر خارجہ، وفاقی وزراء اور وزیر مملکت بزنس کلاس سفر کے مجاز ہوں گے۔
پالیسی میں بیرون ملک دوروں کے لیے پی آئی اے کو پہلی ترجیح قراردیا گیا ہے جبکہ بھارت کے دورے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








