اسرائیلی فوج کا غزہ کے الشفا اسپتال پر حملہ، الجزیرہ کے صحافی کو گرفتار کرلیا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو الجزیرہ

قابض اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید، زخمی اور گرفتار ہوئے۔

قابض فوج نے الجزیرہ کے نمائندے اسماعیل الغول کو الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے اندر سے گرفتار کیا، جبکہ قابض فوج نے اسماعیل الغول کو گرفتار کرنے سے قبل شدید زدوکوب بھی کیا۔

دریں اثنا الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے غزہ میں اپنے نمائندے اسماعیل الغول اور ان کے ساتھ زیر حراست صحافیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور ان کی حفاظت کا ذمہ دار اسرائیلی قابض فوج کو ٹھہرایا ہے۔

الجزیرہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیر کے روز قابض فوج نے اس کے نامہ نگار اسماعیل الغول پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنے صحافتی فرائض سر انجام دے رہے تھے، بعد ازاں قابض فوج نے انہیں گرفتار کر کے نشریاتی گاڑیوں اور آلات کو تباہ کر دیا۔

الجزیرہ کے مطابق الغول کو غزہ شہر کے الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے اندر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ آج صبح کمپلیکس پر قبضے کے حملے کو کور کرنے پہنچے تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض فوج نے الغول اور ان کے ساتھ کام کرنے والے پریس اسٹاف میں شامل متعدد ساتھیوں کو گرفتار کرنے سے قبل شدید زدوکوب کیا۔

الشفا کمپلیکس میں موجود صحافی محمود علیوا نے بتایا کہ قابض فوجیوں نے الغول اور اس کے ساتھ کام کرنے والے عملے کو زدوکوب کیا، ان کے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا اور پھر انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔

الجزیرہ نیٹ ورک نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ قابض فوج کی طرف سے صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی ایک اور کوشش ہے تاکہ وہ غزہ میں معصوم شہریوں کے خلاف ہونے والے ہولناک جرائم دنیا کو دکھانا چھوڑ دیں۔

Related Posts