پاکستان نے افغانستان کی حدود کے اندر فوجی آپریشن کی تصدیق کر دی ہے، دوسری طرف طالبان حکومت نے کابل میں پاکستانی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے کارروائی پر شدید احتجاج اور انتباہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کی، آج صبح کی گئی کارروائی کا ہدف حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے جو کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر متعدد دہشت گردانہ حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ ان دہشت گردانہ حملوں میں سیکڑوں شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی شہادتیں ہوئیں، تازہ ترین حملہ 16 مارچ کو میرعلی میں ہوا، جس میں 7 پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں پاکستان نے افغان حکومت کو دہشت گردوں کی موجودی سے متعلق بارہا آگاہ کیا، پاکستان افغانستان کی سلامتی اور خود مختاری کا احترام کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں چھپے دہشت گرد پاکستان کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں، پاکستان نے کالعدم ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ملک میں دہشت گردی کے جواب میں کی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان افغانستان کو با رہا باور کرا چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، پاکستان افغانستان سے کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے، پاکستان مسائل کے مشترکہ حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
دریں اثنا افغان وزارت خارجہ نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا اور خوست پر پاکستانی کارروائی کے ردعمل میں کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے سربراہ کو طلب کرکے احتجاجی خط حوالے کیا ہے۔
افغان وزارت خارجہ نے حملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ آگاہ کیا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کو دنیا کی سپر پاورز کے خلاف آزادی کے لیے لڑنے کا طویل تجربہ ہے اور وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی طرح کی جارحیت کو برداشت نہیں کر سکتی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی نئی سویلین حکومت اور پاکستان کے عوام کو کچھ حلقوں کو اپنے غیر ذمہ دارانہ اقدامات اور غلط پالیسیوں سے دونوں پڑوسی مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








