رمضان میں جہاں دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان روزے رکھتے ہیں، وہاں بہت سے ملکوں میں غیر مسلم افراد بھی مسلمانوں کے ساتھ روزے رکھتے ہیں۔
ایسا ہی ایک ملک سلطنت برونائی دارالسلام ہے، یہ مشرق بعید کا ایک ایسا مسلم اکثریتی ملک ہے، جہاں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم افراد بھی شوق سے نہ صرف روزے رکھتے ہیں، بلکہ رمضان کے استقبال اور روزوں کی تیاریوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
برونائی دار السلام جسے دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، کی ایک اور منفرد خوبی یہ ہے کہ یہاں رمضان کے پورے مہینے سرکاری تعطیل ہوتی ہے، جی ہاں پورے مہینے سرکاری چھٹی، تاکہ تمام لوگ ذوق و شوق اور پوری یکسوئی کے ساتھ عبادات میں گزاریں۔
رمضان کیلئے اس خاص اہتمام کی وجہ یہ ہے کہ برونائی کے بادشاہ سلطان حسن البلقیہ بذات خود رمضان کی تمام سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔
الجزیرہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق سلطان حسن البلقیہ بذات خود تمام شاہی پروٹوکول ایک طرف رکھ کر روزہ داروں کیلئے سحری اور افطاری کی تیاریوں میں حصہ لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ سلطان افطار بھی مسلمانوں کے ساتھ سلطنت کے دار الحکومت بندر سری بیگوان کی گرینڈ مسجد میں ہی کرتے ہیں، وہ شاہی پروٹوکول کے مطابق شاہی بگھی میں محل سے گرینڈ مسجد آتے ہیں تو راستے میں عوام بھی ان کے ہمراہ جلوس کی شکل میں چل پڑتے ہیں۔
بگھی پر سوار سلطان حسن البلقیہ گرینڈ مسجد پہنچتے ہیں، جہاں ان کے وزرا اور مصاحبین کے ساتھ عام عوام بھی موجود ہوتے ہیں اور وہیں سلطان نہ صرف افطاری کرتے ہیں بلکہ نماز مغرب کے بعد دینی نشست میں بھی شرکت کرتے، وعظ سنتے اور دعا میں شریک ہوتے ہیں۔
اس موقع پر سلطان کی اہلیہ اور ملکہ بھی ان کے ہمراہ ہوتی ہیں اور دیر تک گرینڈ مسجد میں روزانہ بعد نماز مغرب بیٹھتے ہیں۔
سلطان حسن البلقیہ کی اس ذاتی دلچسپی اور اہتمام کا ہی اثر ہے کہ سلطنت کے غیر مسلم باشندے بھی مسلمانوں کے ساتھ ذوق و شوق سے رمضان کی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں، یہاں تک کہ مسلمانوں کے احترام میں روزے بھی رکھتے ہیں۔
سلطنت برونائی میں 70 فیصد مسلمان رہتے ہیں، جبکہ باقی تیس فیصد عیسائی، ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ برونائی کی ایک اور منفرد بات یہ ہے کہ یہاں 2014 سے شرعی قوانین نافذ ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








