مینوفیکچرنگ سیکٹر پر سپر ٹیکس میں کمی کا امکان، نیا صنعتی پالیسی مسودہ تیار

تازہ ترین

تازہ ترین

Govt Likely to Reduce Super Tax for Manufacturing Sector Amid IMF Approval
ONLINE

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کرنے کا عندیہ دیا ہے جو آئندہ صنعتی پالیسی کا حصہ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق یہ کمی آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہے اور آئندہ چار برسوں میں اس شرح کو پانچ فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پانچویں سال میں سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا منصوبہ ہے، بشرطیکہ بنیادی مالی توازن سرپلس میں رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی صنعتی پالیسی کا مسودہ اس ماہ کے آخر تک وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس مسودے میں متعدد اقدامات شامل ہیں جن کا مقصد ملکی صنعت کو سہارا دینا اور پیداواری شعبے کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

تجویز کے مطابق سپر ٹیکس کا کم از کم اطلاقی ہدف 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کا منصوبہ ہے۔

اسی طرح 10 فیصد سپر ٹیکس کے لیے مقرر کردہ ہدف 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کاروں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور بوجھ صرف بڑے کاروباری اداروں تک محدود رہے۔

پالیسی مسودے میں کمزور اور غیر فعال صنعتی یونٹس کی بحالی کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

اس کے تحت ٹیکس ریٹ میں توازن پیدا کرنے، دیوالیہ اداروں کے لیے قانونی ڈھانچہ متعارف کرانے اور آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کا منصوبہ ہے، تاکہ ناکام کاروباروں کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔

مزید برآں، سرمایہ کاری کے تحفظ اور برآمدات میں اضافے کے لیے بھی مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن سے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کے مسابقتی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ توقع ہے کہ یہ اقدامات صنعت کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں گے اور مجموعی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔

نئی صنعتی پالیسی کا مقصد مینوفیکچرنگ سیکٹر کو درپیش طویل مدتی مسائل کا حل فراہم کرنا ہے اور اسے موجودہ ماہ میں وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد نافذ کرنے کا امکان ہے تاہم اس کی حتمی شکل آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگی۔

Related Posts