خلاء کی تاریکیوں سے زمین کی طرف بڑھتا ہوا امریکی شہر مین ہیٹن جتنا بڑا بین السیّارہ (Interstellar)پوری سائنسی دنیا میں ہلچل مچا رہا ہے، ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ فلکیات ڈاکٹر آوی لوب کا کہنا ہے کہ یہ کوئی عام دمدار ستارہ (کومِٹ) نہیں بلکہ ممکنہ طور پر کسی ذہین خلائی مخلوق کا بھیجا ہوا پروب ہو سکتا ہے جو ہمیں بچانے آ رہا ہے یا تباہ کرنے ۔
یہ عجیب و غریب خلائی شے جسے 31/ATLAS کا نام دیا گیا ہے جولائی کے اوائل میں دریافت ہوئی جب یہ زمین کے قریب سے گزری۔ ناسا نے اسے بظاہر ایک غیر معمولی مگر قدرتی کومِٹ قرار دیا ہے لیکن ڈاکٹر لوب اس سے متفق نہیں ہیں۔
ڈاکٹر لوب نے امریکی ٹی وی چینل سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر دمدار ستاروں کی روشنی یا دُھواں پیچھے ہوتا ہے لیکن 31/ATLAS کی روشنی سامنے ہے جو سائنس کے لیے ایک پہیلی ہے۔
اسی نکتے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ یہ روشنی اس امکان کو جنم دیتی ہے کہ یہ شے کسی ذہین تہذیب کی جانب سے بھیجی گئی ہو جو ہمارے نظامِ شمسی کا مشاہدہ یا مداخلت کر رہی ہو۔
ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی حالیہ تصاویر میں دیکھا گیا کہ اس عجیب جسم کے سامنے روشنی کا مرکز ہے لیکن کسی قسم کی گیس کے ذرات نظر نہیں آرہے جو ایک عام کومِٹ کیلئے غیر معمولی بات ہے۔ اگر یہ کومِٹ نہیں تو کیا یہ مشن پر آیا ہوا کوئی غیر زمینی جہاز ہے؟ ہمیں دونوں امکانات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
یہ خلائی شے رواں سال 31 اکتوبر (ہالووین) کو سورج کے قریب ترین مقام پر پہنچے گا جب زمین دوسری سمت میں ہو گی یعنی ہم اسے اس وقت براہ راست نہیں دیکھ سکیں گے۔
دوسری جانب ریپبلکن کانگریس وومن اینا پاؤلینا لونا نے لوب کے مشاہدے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور ناسا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جونو مشن کو 31/ATLAS کے مزید مشاہدے کے لیے توسیع دے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انقلابی دریافت کا موقع ہے جسے ہم ضائع نہیں کر سکتے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








