لندن: برطانیہ میں افراطِ زر 41 سال کی بلند ترین سطح پر ہے جبکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ گئیں جس سے شہریوں کا جینا اجیرن ہوتا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی عوام کیلئے گھریلو بجٹ تیار کرنے میں مشکلات پیدا کرنے لگی۔ دودھ، پنیر اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔
عوام کیلئے خوشخبری، ضلعی انتظامیہ کا 9 اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
گزشتہ ماہ اکتوبر کے دوران افراطِ زر کی شرح 11.1فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچی، اشیائے خوردونوش کے علاوہ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں خدمات کی فراہمی بھی مہنگی ہوگئی۔
عوام برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مختلف شعبہ جات میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ عالمی خبر رساں ادارے (رائٹرز) نے مہنگائی میں سالانہ اضافے کی پیشگوئی کی تھی۔
ایک جانب برطانوی حکومت نے عوام کیلئے انرجی پرائس گارنٹی پروگرام متعارف کرادیا ہے تاہم برطانوی ادارۂ قومی شماریات کا کہنا ہے کہ بجلی، گیس اور دیگر ایندھن مہنگے ہونے کے باعث اشیائے خوردونوش مہنگی ہوئیں۔
حکومت نے عوام کو گھرانوں کی توانائی کے اخراجات کے حوالے سے مدد کا منصوبہ بنانا شروع کردیا ہے تاہم روس یوکرین جنگ کے باعث عالمی سطح پر جنم لینے والی کساد بازاری برطانوی معیشت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








