گل پلازہ کی آگ اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا نوٹس! یہ بیانات فائلوں تک محدود رہیں گے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے معروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو فوری انکوائری کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے آگ لگنے کی وجوہات معلوم کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی ہے کہ گل پلازہ میں فائر سیفٹی انتظامات کا مکمل جائزہ لیا جائے اور اس بات کی نشاندہی کی جائے کہ حفاظتی قوانین پر کہاں اور کیوں عملدرآمد نہیں ہوا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کراچی کی تمام کمرشل عمارتوں میں فوری فائر آڈٹ کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔

شہری حلقوں کی جانب سے یہ سوال ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ اقدامات بھی ماضی کی طرح صرف بیانات اور فائلوں تک محدود رہیں گے؟ کیونکہ کراچی میں ہونے والے ہر بڑے حادثے کے بعد نوٹس، انکوائریوں اور احکامات کا اعلان تو کیا جاتا ہے مگر عملی نتائج شاذ و نادر ہی سامنے آتے ہیں۔

واضح رہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی آگ کے نتیجے میں ایک فائر فائٹر سمیت 8 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہ پایا جا سکا، جبکہ آگ کی شدت کے باعث عمارت کے بعض حصے بھی منہدم ہو گئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق ہفتے کی رات تقریباً سوا 10 بجے گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر آگ بھڑکی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ماضی کے سانحات کے بعد کیے گئے فائر آڈٹس اور انکوائری رپورٹس پر واقعی عمل کیا گیا ہوتا تو شاید آج قیمتی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بار صرف نوٹس لینے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ذمہ داروں کا تعین کر کے عملی کارروائی کی جائے۔

Related Posts