کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں حالیہ آتشزدگی کے سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر افواہوں اور جعلی معلومات کا سلسلہ جاری ہے۔
پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے متعدد اکاؤنٹس اور دیگر سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے گل پلازہ یونین کی ایک جعلی مینٹیننس کی رسید وائرل کی جا رہی ہے۔
باجی زرا یہ بتائیں کیا یہ رقم سندھ حکومت وصول کرتی ہے یا کراچی کا میئر کہ پوری بلڈنگ میں نہ تو ایمرجنسی ایگزیکٹ پر کام ہو پایا نہ ہی فائر سسٹم نصب کیا گیا اور اس عمارت میں غیر خاتون تعمیرات کی اجازت کس نے دی اس سب کا جو زمہ دار ہے اسکو پکڑنے کی بات کرو https://t.co/18rL4AEute pic.twitter.com/VmHoAbe0P7
— Shahzad Shafi (@ShahzadShafi007) January 19, 2026
اس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یونین کے صدر فی دکان سے 5,500 روپے یا بعض جگہوں پر 10,000 روپے تک ماہانہ مینٹیننس وصول کر رہے ہیں۔ یہ رسید مکمل طور پر جعلی ہے اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔
یہ شخص کراچی گل پلازہ شاپ ایسوسی ایشن کا صدر تھا
جو دکانداروں سے ہر ماہ زبردستی دس ہزار روپے
مینٹیننس کے نام پر وصول کرتا رہا۔
یوں ہر مہینے تقریباً ایک کروڑ روپے جمع ہوتے رہے
جو کسی حساب کتاب کے بغیر اس کی جیب میں جاتے تھے۔
اگر یہی رقم
فائر الارم، آگ بجھانے والے آلات، ایمرجنسی… https://t.co/xJBuLWv8ci— Ahmad Ghuman (@ghuman_ar) January 19, 2026
گل پلازہ کی مارکیٹ ایسوسی ایشن ہر دکان سےماہانہ 5,500روپے وصول کرتی رہی۔
1200دکانوں سےہر ماہ 66لاکھ اور سالانہ تقریباً8کروڑ روپے بنتےہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر اتنی بھاری رقم وصول کی جاتی رہی تو فائر سیفٹی سسٹم کیوں نصب نہیں کیاگیا؟500 دکانوں کی گنجائش میں 1200دکانیں کیسےقائم کی گئیں؟ pic.twitter.com/ukxUlvBFWF— M Z Kalhoro (@mianzaminabbas) January 19, 2026
مگر مچھ کے آنسو ۔ pic.twitter.com/Yd9xCqQygr
— Saeed Ahmed Official (@BeingSAOfficial) January 19, 2026
اصل صورتحال یہ ہے کہ گل پلازہ میں تقریباً بارہ سو دکانیں ہیں اور فی دکان ماہانہ صرف 1,500 روپے مینٹیننس لی جاتی ہے۔ یہ رقم پلازہ کی صفائی، سیکیورٹی، بجلی، پانی اور دیگر سہولیات پر خرچ ہوتی ہے۔ بعض اوقات انتظامیہ کو اپنی جیب سے بھی اضافی رقم لگانی پڑتی ہے۔
اس جعلی رسید کی بنیاد پر غلط پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے جو سانحے کی اصل وجوہات سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
سینیئر صحافی فیصل حسین نے بھی اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) ہینڈل پر بیان کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کل رات سے مقتول کو قاتل ثابت کرنے کی مہم چلا رہے ہیں اور دکانداروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سانحہ گل پلازہ ، پیپلزپارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کل رات سے مقتول کو قاتل ثابت کرنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگارہے ہیں کہ اس سانحہ کے اصل زمہ دار دکاندار ہیں مطلب یہ کہ سوشل میڈیا پر پیسے خرچ کرو کوئی بھی مہم چلاؤ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر پیشہ ور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نام کی ایک…
— Faisal Hussain Official (@s_faisalhussain) January 19, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر پیشہ ور ایکٹیوسٹس موجود ہیں جنہیں پیسے دے کر کوئی بھی مہم چلائی جا سکتی ہے۔
نوٹ؛ عوام سے اپیل ہے کہ ایسی جعلی رسیدوں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔اصل حقائق اور دستاویزات خود چیک کریں اور سچائی کو آگے پھیلائیں تاکہ سانحے کے اصل ذمہ داروں تک بات پہنچ سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








