گل پلازہ سانحہ! سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی جعلی مینٹیننس رسیدیں؛ اصل حقیقت جانیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں حالیہ آتشزدگی کے سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر افواہوں اور جعلی معلومات کا سلسلہ جاری ہے۔

پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے متعدد اکاؤنٹس اور دیگر سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے گل پلازہ یونین کی ایک جعلی مینٹیننس کی رسید وائرل کی جا رہی ہے۔

 

اس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یونین کے صدر فی دکان سے 5,500 روپے یا بعض جگہوں پر 10,000 روپے تک ماہانہ مینٹیننس وصول کر رہے ہیں۔ یہ رسید مکمل طور پر جعلی ہے اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔

 

 

اصل صورتحال یہ ہے کہ گل پلازہ میں تقریباً بارہ سو دکانیں ہیں اور فی دکان ماہانہ صرف 1,500 روپے مینٹیننس لی جاتی ہے۔ یہ رقم پلازہ کی صفائی، سیکیورٹی، بجلی، پانی اور دیگر سہولیات پر خرچ ہوتی ہے۔ بعض اوقات انتظامیہ کو اپنی جیب سے بھی اضافی رقم لگانی پڑتی ہے۔

اس جعلی رسید کی بنیاد پر غلط پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے جو سانحے کی اصل وجوہات سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

سینیئر صحافی فیصل حسین نے بھی اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) ہینڈل پر بیان کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کل رات سے مقتول کو قاتل ثابت کرنے کی مہم چلا رہے ہیں اور دکانداروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر پیشہ ور ایکٹیوسٹس موجود ہیں جنہیں پیسے دے کر کوئی بھی مہم چلائی جا سکتی ہے۔

نوٹ؛ عوام سے اپیل ہے کہ ایسی جعلی رسیدوں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔اصل حقائق اور دستاویزات خود چیک کریں اور سچائی کو آگے پھیلائیں تاکہ سانحے کے اصل ذمہ داروں تک بات پہنچ سکے۔

Related Posts