منیٰ میں حج کا سالانہ اجتماع شروع ہوگیا ہے جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے عازمین حج اپنے اپنے قافلوں کی صورت میں پہنچ رہے ہیں۔ بڑی تعداد رات گئے منیٰ کے خیمہ بستی میں پہنچ چکی ہے، جبکہ مزید قافلے مکہ مکرمہ، عزیزیہ اور دیگر علاقوں سے آج فجر کے بعد منیٰ کی جانب روانہ ہوں گے۔
حکام کے مطابق 8 ذوالحج کو ظہر سے پہلے منیٰ پہنچنا سنتِ حج کا حصہ ہے، جہاں عازمین پانچ نمازیں ادا کریں گے، جن میں 8 ذوالحج کی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور 9 ذوالحج کی فجر شامل ہیں۔
9 ذوالحج کو یوم عرفہ ہوگا، جس میں عازمین حج میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوں گے۔ مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیا جائے گا اور ظہر و عصر کی نمازیں قصر و جمع کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔ اس سال خطبہ حج کی سعادت مسجد نبوی کے سینئر امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحدیفی کو حاصل ہوگی۔
بعد ازاں عازمین وقوف عرفہ کریں گے اور مغرب کی نماز ادا کیے بغیر مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے۔ مزدلفہ میں فجر کی نماز کے بعد وقوف کیا جائے گا اور پھر منیٰ واپسی ہوگی۔
منیٰ میں عازمین جمرات پر رمی کریں گے، قربانی ادا کریں گے اور حلق یا تقصیر کے بعد طوافِ زیارت کے لیے مسجد الحرام جائیں گے۔ طواف کے بعد حجاج دوبارہ منیٰ واپس آئیں گے۔
11 اور 12 ذوالحج کو تینوں جمرات پر رمی کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ 12 ذوالحج کے بعد حجاج اپنے اپنے ممالک یا رہائش گاہوں کو روانہ ہوں گے۔ 13 ذوالحج تک منیٰ میں قیام سنت ہے اور اس دن بھی رمی کی جا سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








