ارمغان کو ایک بار نہیں بار بار پھانسی دی جائے، مصطفی عامر کی غمزدہ والدہ کا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Hang Mustafa Amir's murderer again and again, mother demands

کراچی: مصطفی عامر کے قتل کے اندوہناک واقعے پر ان کی والدہ وجیہہ عامر نے دل دہلا دینے والی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی ملزم ارمغان قریشی کو ایک مرتبہ پھانسی دینا کافی نہیں بلکہ اسے بار بار پھانسی دی جائے۔

انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہایہ جنگ ہر کسی کے بس کی بات نہیں،ارمغان کو بار بار پھانسی ہونی چاہیے۔

انہوں نے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سخت سوالات اٹھائے اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ان کے بیٹے کو لے جانے والی گاڑی کراچی سے حب تک کئی چیک پوسٹوں سے گزری، مگر کہیں بھی روکی نہ گئی۔

گاڑی کو کیوں نہیں چیک کیا گیا؟ یہ ہمارے سیکورٹی نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔

اپنے بیٹے کے قتل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر شیراز نے ارمغان کو ایک لڑکی پر تشدد سے روکا اور اسے اسپتال پہنچایا تو وہ مصطفی کے لیے ایسا کیوں نہ کر سکا؟

انہوں نے وہ دل دہلا دینے والا لمحہ بھی یاد کیا جب انہیں اپنے بیٹے کی موت کی خبر ملی۔ “جب ڈی آئی جی سی آئی اے نے پریس کانفرنس میں میرے بیٹے کی موت کا اعلان کیا، میں نے فوراً ٹی وی بند کر دیا۔ دو گھنٹے تک میں نے یقین ہی نہیں کیا کیونکہ میں 6 جنوری سے اپنے بیٹے کو زندہ تلاش کر رہی تھی۔

وجیہہ عامر نے مزید کہا کہ وہ آخری وقت تک امید سے تھیں۔مجھے پورا یقین تھا کہ میرا بیٹا زندہ ملے گا۔ لیکن جب یہ خبر آئی، تو میری دنیا ہی اجڑ گئی۔

انہوں نے ارمغان کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ وہ جرم کے وقت منشیات کے زیر اثر تھا۔اگر وہ نشے میں تھا، تو پھر وہ بغیر گوگل میپ کے حب تک گاڑی کیسے چلا سکتا تھا؟۔

مصطفی عامر 6 جنوری کو لاپتہ ہوئے، اور ان کی والدہ نے اگلے دن گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ تاہم یہ کیس اس وقت ایک سنگین موڑ اختیار کر گیا جب 25 جنوری کو تاوان کی کال موصول ہوئی۔

9 فروری کو ایک بڑے پولیس آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے کے بعد ارمغان قریشی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا کہ اس نے مصطفی کی لاش ملیر میں ٹھکانے لگا دی، مگر بعد میں بیان بدل دیا۔

تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ مصطفی کا قتل ایک لڑکی کے تنازع پر ہوا اور ارمغان کے ساتھی شیراز نے بھی اس جرم میں کلیدی کردار ادا کیا۔

حکام اب اس لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر قتل کے بعد اس کے امریکا فرار ہونے کی وجہ سے معاملہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹرپول سے رابطہ کر لیا ہے تاکہ اس لڑکی کا سراغ لگا کر اسے شاملِ تفتیش کیا جا سکے کیونکہ اس کا بیان مصطفی کے اندوہناک قتل کی حقیقت سامنے لانے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Posts