ہنٹا وائرس دنیا کیلئے نیا عذاب؟ سمندر میں قید 150 مسافروں کی چیخ و پکار؛ جانیں خوفناک حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ گیٹی امیج)

بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والا لگژری کروز شپ ایم وی ہونڈیئس اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں ہنٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد مختلف ممالک نے جہاز کو اپنی بندرگاہوں پر رکنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس صورتحال کے باعث جہاز کئی دنوں تک مغربی افریقہ کے ساحلی علاقے کیپ وردے کے قریب سمندر میں معطل رہا جبکہ اس پر سوار تقریباً 150 مسافر اور عملے کے ارکان شدید بے یقینی میں مبتلا رہے۔

اٹلانٹک اوڈیسی کا خوابناک سفر خوف میں بدل گیا

ڈچ کمپنی کے زیر انتظام چلنے والا یہ کروز دنیا کے دور افتادہ جزائر کی سیر کے لیے اٹلانٹک اوڈیسی نامی بحری مہم پر روانہ ہوا تھا لیکن ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ نے اس سفر کو خوفناک صورتحال میں بدل دیا۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق اب تک وائرس کے کم از کم پانچ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید تین افراد کو مشتبہ مریض قرار دے کر نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

تین ہلاکتیں، ایک برطانوی شہری کی حالت تشویشناک

اس وبا کے نتیجے میں اب تک تین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والا ایک میاں بیوی اور جرمنی کا ایک شہری شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جہاز پر انتقال کرنے والے پہلے شخص کی موت 11 اپریل کو ہوئی تھی جبکہ اس کی اہلیہ تقریباً دو ہفتے بعد 24 اپریل کو جہاز سے اتری تھیں۔ ایک برطانوی شہری کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور اسے جنوبی افریقہ میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے۔

وائرس کیسے پھیلا؟ ماہرین نے ممکنہ وجہ بتا دی

طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس غالباً جنوبی امریکا کے سفر کے دوران چوہوں کے فضلے، پیشاب یا آلودہ ماحول کے ذریعے پھیلا۔ ہنٹا وائرس عام طور پر چوہوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تاہم اینڈیز نامی قسم محدود حد تک انسان سے انسان میں بھی منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جس نے صحت حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

سمندر میں قید مسافر

جہاز پر موجود مسافروں کو ماسک پہننے، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور میل جول کم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بعض افراد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ خود کو سمندر کے بیچ قید محسوس کر رہے ہیں کیونکہ انہیں جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی آئندہ کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

کیپ وردے سے انکار، اب ٹینیریف اگلا پڑاؤ

کیپ وردے کی حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے باعث ابتدائی طور پر جہاز کو بندرگاہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا بعد ازاں جہاز کو اسپین کے جزائرِ کینری کے علاقے ٹینیریف کی جانب روانہ کیا گیا جہاں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسافروں اور عملے کو طبی نگرانی میں جہاز سے اترنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

مقامی آبادی میں خوف، حکام نے خطرہ کم قرار دے دیا

اس واقعے کے بعد جزائرِ کینری کے رہائشیوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں اور کئی افراد کو خوف ہے کہ کہیں صورتحال کورونا وبا کے دور جیسی پابندیوں کی طرف نہ چلی جائے تاہم عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ عام عوام کے لیے فوری خطرہ کم ہے کیونکہ وائرس کی یہ قسم صرف قریبی اور طویل رابطے کے ذریعے ہی ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے۔ ساتھ ہی مختلف ممالک میں ان افراد کی نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے جو اس جہاز سے پہلے ہی اتر چکے تھے۔

Related Posts