بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والا لگژری کروز شپ ایم وی ہونڈیئس اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں ہنٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد مختلف ممالک نے جہاز کو اپنی بندرگاہوں پر رکنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس صورتحال کے باعث جہاز کئی دنوں تک مغربی افریقہ کے ساحلی علاقے کیپ وردے کے قریب سمندر میں معطل رہا جبکہ اس پر سوار تقریباً 150 مسافر اور عملے کے ارکان شدید بے یقینی میں مبتلا رہے۔
اٹلانٹک اوڈیسی کا خوابناک سفر خوف میں بدل گیا
ڈچ کمپنی کے زیر انتظام چلنے والا یہ کروز دنیا کے دور افتادہ جزائر کی سیر کے لیے اٹلانٹک اوڈیسی نامی بحری مہم پر روانہ ہوا تھا لیکن ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ نے اس سفر کو خوفناک صورتحال میں بدل دیا۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق اب تک وائرس کے کم از کم پانچ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید تین افراد کو مشتبہ مریض قرار دے کر نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
🚨 HANTAVIRUS TELEPORTS WORLDWIDE IN 24 HOURS! 🚨
One minute there is an alleged outbreak on some random cruise ship floating in the middle of the ocean. No ports. No airports. Just a floating petri dish.
24 HOURS LATER confirmed cases are popping up in Holland, Singapore, and… pic.twitter.com/AzRY85eZPr
— Stern Drew (@SternDrewCrypto) May 7, 2026
🚨 JUST IN:
The World Health Organization (WHO) confirmed the registration of 149 new cases of Hantavirus.
The mortality rate for this virus is 40%, while the mortality rate for COVID-19 did not exceed 1%.
This is extremely serious for the markets… pic.twitter.com/gro0ADgi4D
— GBX (@GBX_Press) May 8, 2026
تین ہلاکتیں، ایک برطانوی شہری کی حالت تشویشناک
اس وبا کے نتیجے میں اب تک تین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والا ایک میاں بیوی اور جرمنی کا ایک شہری شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جہاز پر انتقال کرنے والے پہلے شخص کی موت 11 اپریل کو ہوئی تھی جبکہ اس کی اہلیہ تقریباً دو ہفتے بعد 24 اپریل کو جہاز سے اتری تھیں۔ ایک برطانوی شہری کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور اسے جنوبی افریقہ میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے۔
وائرس کیسے پھیلا؟ ماہرین نے ممکنہ وجہ بتا دی
⛔️⛔️Hantaviruses are zoonotic viruses that naturally infect rodents and can occasionally spread to people. pic.twitter.com/6DNyDm68sY
— Dr.Sam Youssef Ph.D.,Ph.D.,DPT. (@drhossamsamy65) May 8, 2026
طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس غالباً جنوبی امریکا کے سفر کے دوران چوہوں کے فضلے، پیشاب یا آلودہ ماحول کے ذریعے پھیلا۔ ہنٹا وائرس عام طور پر چوہوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تاہم اینڈیز نامی قسم محدود حد تک انسان سے انسان میں بھی منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جس نے صحت حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
سمندر میں قید مسافر
جہاز پر موجود مسافروں کو ماسک پہننے، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور میل جول کم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بعض افراد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ خود کو سمندر کے بیچ قید محسوس کر رہے ہیں کیونکہ انہیں جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی آئندہ کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
کیپ وردے سے انکار، اب ٹینیریف اگلا پڑاؤ
کیپ وردے کی حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے باعث ابتدائی طور پر جہاز کو بندرگاہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا بعد ازاں جہاز کو اسپین کے جزائرِ کینری کے علاقے ٹینیریف کی جانب روانہ کیا گیا جہاں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسافروں اور عملے کو طبی نگرانی میں جہاز سے اترنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
مقامی آبادی میں خوف، حکام نے خطرہ کم قرار دے دیا
12 countries already hit with Hantavirus.
Same hazmat teams, same ambulances, same panic as last time on Covid
We still recovering from the first one and they started round 2.
We’re cooked bro. pic.twitter.com/MAo1Op9ERN
— Richard Mille (@IamRicchard) May 8, 2026
اس واقعے کے بعد جزائرِ کینری کے رہائشیوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں اور کئی افراد کو خوف ہے کہ کہیں صورتحال کورونا وبا کے دور جیسی پابندیوں کی طرف نہ چلی جائے تاہم عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ عام عوام کے لیے فوری خطرہ کم ہے کیونکہ وائرس کی یہ قسم صرف قریبی اور طویل رابطے کے ذریعے ہی ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے۔ ساتھ ہی مختلف ممالک میں ان افراد کی نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے جو اس جہاز سے پہلے ہی اتر چکے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








