کیا عمران خان نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کی ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کیا عمران خان نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کی ہے؟
کیا عمران خان نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کی ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سلمان رشدی پر چاقو سے حملے کی مذمت کے بعد ملک میں نئی ​​بحث چھڑ گئی ہے۔

عمران خان نے کیا کہا؟

عمران خان نے دوران انٹرویو کہا کہ میرے خیال میں یہ خوفناک اور افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلمان رشدی سمجھ گیا کیونکہ وہ ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، وہ ہمارے دلوں میں بسنے والے پیغمبرکی محبت، احترام، تعظیم کو جانتا ہے، وہ جانتا تھا، لیکن جو ہوا اس کا جواز نہیں بنتا۔

ردعمل

سابق وزیراعظم کے اس انٹرویو کے بعد ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے ، مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جانب سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ آخر عمران خان نے ایسا کیوں کہا؟ مدینے کی ریاست بنانے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان توہین رسالت کے مرتکب سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کیسے کرسکتے ہیں۔

تحریک انصاف کی وضاحت

سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ سے اس معاملے پر وضاحت جاری کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے وضاحت ” اسلام کا پرچم سر بلند کرنے والے لیڈر عمران خان کی کردار کشی مہم کا آغاز” کے عنوان سے جاری کی گئی ہے۔

وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے ” امپورٹڈ حکومت نے ہمیشہ ہی عمران خان کی کردار کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس ضمن میں ان کی ذاتیات کو نشانہ بنا کر ان کی ساکھ کو مجروح کرنے کیلئے ہر ممکنہ پراپیگنڈا کیا گیا، اس ملک میں عمران خان سے بڑا عاشق رسول ﷺ کون ہے جس نے توہین رسالت ﷺ کے معاملے کو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں نہ صرف اجاگر کیا بلکہ رسالت مآب ﷺ سے امن کے تعلق اور نسبت کے بارے میں بھی سمجھایا اور باور کروایا کہ آزادیِ اظہار کے نام پر کسی شخص کو رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کی اجازت ہر گز نہیں دی جاسکتی۔ عمران خان ہی واحد لیڈر ہیں جنہوں نے اسلام کا پرچم سر بلند کیا اور اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر آواز بلند کی۔”

گستاخانہ کتاب کے مصنف سلمان رشدی

1946 میں بھارت کے مسلم گھرانے میں پیدا ہونے والے سلمان رشدی کو اُن کی گستاخانہ کتاب دی سیٹینک ورسز کی وجہ سے اسلام دشمن کہا جاتا ہے، اُن کی یہ کتاب 1988 میں شائع ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ سلمان رشدی کی کتاب کی اشاعت کے بعد مسلم ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ پاکستان اور ایران سمیت بیشتر اسلامی ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے اور بھارت میں بھی نفرت انگیز تقاریر پر پابندی ہے۔ اس کتاب پر مسلمانوں کی طرف سے توہین مذہب اور ان کے عقیدے کا مذاق اڑانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

حملہ

سلمان رشدی پر نیویارک میں ایک تقریب کے دوران حملہ ہوا تھا، جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ ڈاکٹرز کے مطابق سلمان رشدی کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انھیں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے نوجوان کی شناخت 24 سالہ ہادی مطر کے نام سے ہوئی جو امریکی ریاست نیو جرسی کے علاقے فیئر ویو کے رہائشی ہیں۔ امریکی پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے۔

Related Posts