بیلا حدید کو مسلم ثقافت اور مسلمانوں سے دور زندگی گزارنے پر پچھتاوا

تازہ ترین

تازہ ترین

بیلا حدید کو مسلم ثقافت اور مسلمانوں سے دور زندگی گزارنے پر پچھتاوا
بیلا حدید کو مسلم ثقافت اور مسلمانوں سے دور زندگی گزارنے پر پچھتاوا

25 سالہ فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل بیلا حدید نے مسلم ثقافت اور مسلمانوں کے درمیان زندگی گزارنے کا موقع نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

حال ہی میں ایک فیشن میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں کیریئر، فلسطین سے متعلق کھل کر بات کرنے سمیت مسلم اور عرب نسل سے تعلق ہونے کی وجہ سے بچپن میں پیش آنے والی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔

بیلا حدید نے انٹرویو میں بتایا کہ انہیں فلسطین کے مسئلے پر بولنے کی قیمت ادا کرنی پڑی جب کہ انہیں بچپن میں امریکا میں نسلی تعصب کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں حقیقی مسلمان افراد کے ساتھ زندگی گزارنے اور وہیں پلنے بڑھنے کا موقع نہ مل سکا۔

ماڈل نے مسلم ثقافت سے دوری کو زندگی کی سب سے بڑی محرومی بھی قرار دیا اور اس بات کا اعراف کیا کہ انہیں اس بات پر دکھ ہے کہ وہ مسلم معاشرے میں زندگی نہ گزار سکیں۔

انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہیں اپنے آباؤ و اجداد کے ملک فلسطین کی حمایت کرنے کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔

علاوہ ازیں انہوں نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں فلسطین کی حمایت کرنے پر اپنے ایسے قریبی دوست بھی چھوڑ کر چلے گئے، جو انہیں ہر ہفتے اپنے گھر لے جاکر ان کی دعوت کیا کرتے تھے۔

بیلا حدید کے مطابق فلسطین کی حمایت میں بولنے پر انہیں کئی ملٹی نیشنل برانڈز نے کام دینا بند کردیا اور ان کے دوستوں نے بھی ان کا بائیکاٹ کیا۔

بیلا حدید نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اگر وہ کم عمری میں فلسطین کی حمایت میں بولتیں تو شاید ان کی باتوں کا اتنا اثر نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں ان کی جانب سے فلسطین سے متعلق باتیں کرنا کا اثر ہو رہا ہے اور ان کی باتوں کو پذیرائی بھی مل رہی ہے۔

Related Posts