علم کی شمع جلانے آیا تھا مگر! مدرسے کے قاری نے 6 سالہ بچے کی زندگی کا چراغ گل کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے علاقے منگھوپیر میں گزشتہ ماہ مدرسے کے استاد کے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والا 6 سالہ معصوم بچہ حسن طویل علاج کے بعد پیر کے روز انتقال کر گیا۔

پولیس کے مطابق واقعہ دسمبر 2025 میں پیش آیا تھا جب مدرسے کے استاد نے مبینہ طور پر بچے کے سر پر چھڑی سے وار کیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے استاد کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا تھا۔

متوفی بچے کے والد حبیب الرحمٰن نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تشدد کے بعد حسن کو فوری طور پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی علاج کے بعد چند روز میں اسے گھر بھیج دیا گیا تاہم گھر واپسی کے بعد بچے کی طبیعت دوبارہ بگڑ گئی جس پر اسے دوبارہ اسپتال لے جایا گیا۔

والد کے مطابق بچے کی حالت تشویشناک ہونے پر ڈاکٹروں نے اسے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) منتقل کر دیا جہاں وہ زیرِ علاج رہا۔ طبی ماہرین کی بھرپور کوششوں کے باوجود حسن جانبر نہ ہو سکا اور علاج کے دوران انتقال کر گیا۔

حبیب الرحمٰن نے غمزدہ لہجے میں بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں آگاہ کیا کہ شدید چوٹ کے باعث بچے کے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو سر پر شدید ضرب لگی تھی اس دن کے بعد وہ کبھی صحت یاب نہیں ہو سکا۔ وہ مسلسل بیمار رہا اور بالآخر ہم اسے کھو بیٹھے۔

یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر تعلیمی اور مذہبی اداروں میں بچوں پر جسمانی تشدد کے سنگین مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔ عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اور مؤثر قانون سازی کی جائے۔

Related Posts