کراچی کے علاقے قیوم آباد میں جنسی استحصال کے شکار نابالغ متاثرین نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروا دیئے۔ جنوبی مجسٹریٹ کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران چار متاثرہ لڑکیوں نے جج کے سامنے ملزم شبیر احمد کی شناخت کی۔
متاثرین بچیوں نے سیکشن 164 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ عدالت میں موجود ملزم نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔
دوسری جانب پولیس نے عدالت میں ایک درخواست جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم اپنے جرائم کا اقرار کرنا چاہتا ہے۔ ملزم اس وقت پولیس تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہے اور اس کے خلاف سات مقدمات درج ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کو مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم 2016 سے لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کر رہا تھا اور اس کے اس عمل کی ویڈیوز بھی بناتا تھا۔ ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف کئی مقدمات بھی رجسٹرڈ ہیں۔ ملزم کے قبضے سے برآمد ایک ڈائری میں کئی متاثرین کے نام اور تفصیلات موجود تھیں۔
یاد رہے کہ ملزم سے موبائل فون پر 100 سے زائد ویڈیوز اور ایک یو ایس بی ڈرائیو پر 200 سے زائد ویڈیوز برآمد ہوئیں۔ حکام نے ان ویڈیوز کی نوعیت کو ڈارک ویب طرز کا مواد قرار دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








