آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 17 سالہ نوجوان کرکٹر بین آسٹن پریکٹس کے دوران گیند لگنے سے جان کی بازی ہار گیا۔حادثہ فرنٹری گلی کے نیٹس میں پیش آیا جب بالنگ مشین سے نکلی گیند اس کی گردن پر لگ گئی۔ بین ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے تاہم گردن کے گرد کوئی حفاظتی سامان نہیں تھا۔
پریکٹس کے دوران بین آسٹن گیند لگنے سے زخمی ہوئے تو انہیں فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال پہنچایا گیا جہاں انہیں لائف سپورٹ پر رکھا گیا تاہم آج جمعرات کو وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔

بین کے والد جیس آسٹن نے بتایا کہ پورا خاندان شدید صدمے میں ہے۔ بین اپنے خاندان کا لاڈلا، بھائیوں کا پیارا بھائی اور سب کا محبوب تھا۔ وہ کرکٹ سے بہت محبت کرتا تھا اور گرمیوں میں دوستوں کے ساتھ نیٹس پر کھیلنا اس کا سب سے پسندیدہ شوق تھا۔والد نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ساتھی کھلاڑی اور اس کے خاندان کے لیے دعا گو ہیں جو گیند چلانے میں شامل تھا۔

کرکٹ وکٹوریہ کے سربراہ نک کمنز نے بین کے حادثے کا موازنہ دس سال پہلے فلپ ہیوز کے اسی طرح کے حادثے سے کیا۔ فلپ ہیوز بھی گردن پر گیند لگنے سے چل بسے تھے جس کے بعد حفاظتی سامان میں بہتری لائی گئی تھی۔ بین کی گیند ہاتھ سے چلنے والی مشین سے نکلی تھی جو گیند کی رفتار بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
نک کمنز نے کہا کہ پورے ملک کی کرکٹ برادری اس حادثے پر سوگوار ہے اور یہ صدمہ دیر تک یاد رہے گا۔بین فرنٹری گلی کلب کا کپتان اور سب کا محبوب کھلاڑی تھا۔ کلب نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بین ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ لاتا تھا اور سب سے درخواست کی کہ کرکٹ کھیلتے وقت حفاظت کو ترجیح دیں۔
بین نے ویورلی پارک ہاکس جونیئر فٹ بال کلب کے لیے بھی سو سے زائد میچز کھیلے۔ کلب نے اسے شائستہ، احترام کرنے والا اور شاندار کھلاڑی قرار دیا اور کہا کہ اس کی کمی برسوں محسوس ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








