کراچی کے علاقے لانڈھی سے پانچ روز قبل لاپتہ ہونے والے سات سالہ بچے سعد علی کی لاش بوری میں بند حالت میں ملی ہے۔ افسوسناک واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب لانڈھی کے علاقے 36 بی کی کچرا کنڈی سے بدبو آنے پر مقامی افراد نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس اور چھیپا کے رضاکار موقع پر پہنچے تو بوری سے ایک کمسن بچے کی سڑتی ہوئی لاش برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق بچے کی شناخت سات سالہ سعد علی ولد سلمان کے نام سے ہوئی جو 18 ستمبر کو گھر کے باہر سے لاپتہ ہوا تھا۔ اس کے اغوا کا مقدمہ لانڈھی تھانے میں درج کیا گیا تھا، اور بچے کی تلاش کے لیے پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے تھے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتول بچے کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور موت کی وجہ سر پر وزنی چیز لگنے سے ہونے والی چوٹ بتائی گئی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق کے مطابق بچے کے جسم سے حاصل کیے گئے مختلف نمونے کیمیکل تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
زیادتی کے ملزم کا خوفناک اعتراف؛ جانیں شبیر تنولی کی بچوں پر ظلم کی ہولناک داستان
واقعے کے بعد مقتول کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت کے لیے پہنچ گئی اور پولیس پر غفلت برتنے کا الزام لگاتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کی گمشدگی کے باوجود پانچ دن تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔
علاقہ مکینوں اور متاثرہ خاندان نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچے کے ساتھ درندگی کرنے والے مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور مقتول بچے کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں اس لیے یہ واقعہ پوری برادری کے لیے صدمہ اور خوف کی علامت بن گیا ہے۔ بچے کی نمازِ جنازہ اور تدفین ظہر کے بعد ادا کی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








