زیادتی کے ملزم کا خوفناک اعتراف؛ جانیں شبیر تنولی کی بچوں پر ظلم کی ہولناک داستان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی میں 100 سے زائد کم عمر بچیوں اور بچوں سے زیادتی کرنے والے سفاک ملزم شربت فروش شبیر تنولی نے کمرہ عدالت میں بھی بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعترافی بیان ریکارڈ کروا دیا۔

پیسوں کا لالچ دے کر بچوں سے زیادتی کے کیس میں سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ملزم شبیر تنولی کا 6 مقدمات میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ملزم شبیر تنولی نے 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیا۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ بچوں کو پیسوں کا لالچ دے کر کمرے یا جھاڑیوں میں زیادتی کا نشانہ بناتا تھا، ملزم کا اعترافی بیان کمرہ عدالت میں ریکارڈ کیا گیا جبکہ بیان ریکارڈ کروانے سے قبل عدالت نے ملزم شبیر کو 2 گھنٹے غور و خوض کا بھی وقت دیا۔

مجسٹریٹ نے استفسار کیا کہ پولیس کی جانب سے تمھیں تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا گیا یا مارا تو نہیں؟ ملزم نے جواب دیا نہیں مجھے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا، عدالت نے کہا آپ بیان دیں یا نہ دیں آپ کو جیل کسٹڈی کر دیا جائے گا، آپ کا بیان آپ کے خلاف جا سکتا ہے، کسی دباؤ میں تو بیان نہیں دے رہے؟ ملزم نے جواب دیا میں کسی کے دباؤ میں بیان نہیں دے رہا۔

شبیر تنولی نے تنہا جرم کیا یا پورا نیٹ ورک ملوث؟ 100 بچوں کے ریپسٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے ساتھ کوئی اور جرم میں شریک تو نہیں جس پر ملزم نے کہا نہیں میرے ساتھ کوئی شریک جرم نہیں، جج نے کہا آپ کو 2 گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے سوچ سمجھ لیں، آپ کا بیان آپ کے خلاف جا سکتا ہے اور میں اس بیان کا گواہ بن جاؤں گا۔

ملزم نے کہا مجھے گرفتار ہوئے 8 دن ہوگئے ہیں، میرے ساتھ کوئی اور موجود نہیں تھا، بچے سے 2022 میں ملا اور پھر اس سے دوستی کی، بچیوں کو بھی پیسوں کا لالچ دے کر اپنے کمرے میں لے کر گیا ہوں، بچے اور بچیوں کو کئی بار کمرے میں لے کر گیا اوران کی ویڈیوز بھی بناتا تھا۔ ملزم نے بیان میں کہا میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔

کمرہ عدالت میں 6 مقدمات میں ملزم کا الگ الگ اقبالی بیان ریکارڈ کیا گیا ملزم کو اقبالی بیان ریکارڈ کرنے کے بعد پڑھ کر سنایا بھی گیا، عدالت نے کہا ملزم نے اپنا جرم قبول کیا ہے اور ملزم کا زیر دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ پر رکھ لیا گیا ہے۔

Related Posts