جینا چاہتا ہوں، شاہ رخ خان کی طرح ۔۔۔

تازہ ترین

تازہ ترین

I Want to Live Like Shah Rukh Khan

شاہ رخ خان فلمی صنعت کا اک بڑا نام ہے، ان کی ہر فلم آنے سے پہلے ہی کامیابی کے زینے پر پہنچ جاتی ہے، ان کانام، ان کے جینے کا انداز مجھے اک مدت سے پسند ہے اور انہی کی طرح میں بھی جینا چاہتا ہوں ۔

یہ ابتدائی الفاظ تھے اس 34 سالہ جوان کے ، اس کا نام بھی شارخ ہی ہے لیکن وہ شاہ رخ خان ہے اور یہ شاہ رخ ندیم ۔یہ شاہ رخ ندیم اک نابینا شخص ہے ۔ اس کی بینائی اک سانحے کے باعث ہوئی ہوئی اور وہی اپنے خیالات کا ظہار کر رہے تھے ۔

شاہ رخ ندیم کے متعلق سنا اور ملاقات کا اشتیاق بھی رہا ، شہر قائد میں مقیم شاہ رخ سے ملاقات کب ہوگی ، نہیں معلوم لیکن اس کی باتیں ، اس کے ساتھ ہونے والے واقعات اس کی زبانی سننے کے بعد اک ٹیلیفونک انٹرویو آپ کیلئے زیر خدمت ہے ۔

شاہ رخ کا کہنا تھا کہ میں ایک محب وطن پاکستانی ہوں ، جینا چاہتا ہوں اپنے لئے ، اپنے بچوں کے لئے اور سب سے بڑھ کر وطن عزیز پاکستان کے لئے لہذا اج اپ میری ساری باتیں سنیں اور میری خواہش ہے کہ میری ان خیالات و جذبات کو آپ وطن عزیز کے ذمہ داروں تک پہنچائیں ، مجھے ان کی اشیر باد حاصل ہو اور میں وہ سب کچھ کر سکوں جن کے لئے میں نے ارادہ کیا ہوا ہے ۔

جی ضرور ، بتائیں اور سب سے پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ آپ بینا سے نابینا کیسے ہوئے ؟ سنتے ہم سب ہی کی ہیں اور سننے کے بعد اسے لکھتے ہیں لہٰذا آپ اپنی گفتگو میں ہمارے پہلے سوال کا جواب ضرور شامل کریں۔

یوم دفاع پاکستان۔۔

پڑوسی ملک بھارت میں جس طرح سے شاہ رخ خان کا نام روشن ہے اسی طرح وطن عزیز میں آپ کی صلاحیتوں کا بھی ذکر ہو اور آپ کا نام بھی روشن ہوگا۔

شاہ رخ ندیم ، نے اک طویل ڈانس کی اور پھر گویا ہوئے ، شہر قائد کی پی آئی بی کالونی میں میری پیدائش و رہائش تھی ۔ پیپلز پارٹی کے اک سابق رہنما سابق ظہیر اکرم ندیم کی رہائش گاہ کے سامنے ہی ہم رہائش پذیر تھے ، سابق وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو بھی ان کے گھر تشریف لائیں تھیں ۔ دو بہنیں ہیں اور میرے والد صاحب کئی بیرونی ممالک میں رہے ، ملازمتیں کیں اور پھر پاکستان آگئے ۔

میری عمر 34 سال ہے اور تعلیم کے بعد اپنی عمر سے زیادہ دوست کے ساتھ زمین خریدنے اس پر تعمیرات کرنے بعد فروخت کرنے کا کام شروع کیا ۔ محنت و لگن کے ساتھ ہمارا یہ کام کامیابی کے ساتھ جاری رہا ، آپ جانتے ہیں کہ کراچی میں بھتہ خوری کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنے انداز میں عوام سے بھتے لیتی ہیں ۔

ہمیں بھی احمد علی مگسی نے فون کرکے کہا کہ 50 لاکھ روپے دیں ۔ وجہ پوچھنے پر اس کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو یہاں رہتے ہوئے یہ کام جاری رکھنا ہے تو یہ پیسے مجھے ادا کریں بصورت دیگر نتائج کے ذمہ دار اپ خود ہوں گے ۔ یہ باتیں سن کر کے میں اور میرا ساتھی چونک گئے ، میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ کیا معاملہ ہے ایسا اب تک نہیں ہوا ؟ احمد علی مگسی کو جانتا بھی نہیں ۔

بزرگ دوست نے کہا کہ یہ لیاری گینگ وار کا ایک رکن ہے اور اس کے اوپر متعدد قتل کے مقدمات بھی ہیں ، کئی لوگوں کو یہ قتل کر چکا ہے ۔ اس کا کام یہی ہے کہ لوگوں سے براہ راست بھتے لیتا ہے ۔

یہ تفصیلات جان کر میں نے کہا کہ ہم تو انہیں کسی بھی طرح سے بھتا نہیں دیں گے ۔ اللہ کی رضا کے لئے محنت کرتے ہیں اور پھر عمارت بننے کے بعد اسے بیچتے ہیں اور حلال روزی خود کھانے کے ساتھ اپنے بچوں کو کھلاتے ہیں لہذا ہم کسی بھی طرح سے بھتہ نہیں دیں گے ۔

شاہ رخ کا کہنا تھا کہ یہی ساری باتیں میں نے احمد علی مگسی کو کہیں ، جس پر اس نے نتائج کے لئے تیار رہنے کو کہا ۔ پی آئی بی کالونی میں جہاں جہاں بھی ہمارے کام ہو رہے تھے ، مگسی نے ان کو روکا ، مزدوروں کو دھمکیاں دیں اور کئی ملازمین پر فائرنگ بھی کی ۔

ایبٹ اباد کے اک رہائش پذیر ہمارے ملازم کو فائرنگ کرکے زخمی کیا ، اس کے ہاتھ پہ چھوٹیں آئیں اور اس واقعے کے بعد دیگر مزدور بھی خاصے پریشان ہو گئے ۔

شاہ رخ ندیم کا کہنا تھا کہ مزدوروں پر ر اس حملے کے بعد میں نے قریبی پولیس تھانے میں مگسی کے خلاف رپورٹ درج کرائی لیکن اس کے بعد بھی میرے پاس مگسی کا فون آیا ، اس کا کہنا تھا کہ ان رپورٹوں سے کچھ نہیں ہوگا ، اس لئے بہتر یہی ہے کہ جو رقم مانگی ہے اسے مجھے دو ۔

حفاظتی نقطہء نظر سے میں نے اپنے والد کا قانونی اسلحہ اپنے پاس رکھنا شروع کر دیا ، صرف پولیس ہی نہیں رینجرز اور دیگر اداروں کو بھی مگسی کے خلاف شکایتیں کیں ۔ ان سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواستیں کیں ۔ ان تمام کوششوں کا مقصد یہ تھا کہ قانونی ادارے ہمیں احمد علی مگسی کے اس ظلم سے بچائیں اور ہمیں اپنی محنت کے ساتھ روزی کمانے دیں ۔

صورتحال ایسی ہو گئی تھی کہ جس کسی پولیس آفیسر کے پاس شکایت لے کر کہ میں جاتا اور وہاں سے میں وہ نکلتا تو احمد علی مگسی کا فون آتا اور وہ کہتا کہ جہاں بھی شکایت کرو گے کچھ حاصل نہیں ہوگا میرا بھتہ دو گے تو ہی کام کر سکو گے ۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ایسے شخص کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتے جس کے خلاف متعدد قتل و دیگر کے مقدمات بھی ہیں پھر جس دفتر سے ہم نکلتے تو اس کے بندے ، اسے اطلاع کرتے اور وہ مجھے فون کرتا۔

اک لمبی سی سانس لینے کے بعد شاہ رخ نے کہا کہ وقت گذرتا رہا میں اسلحہ اپنے پاس رکھ کر کے کام کو آگے بڑھاتا رہا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ میرے کاروباری ساتھی نے احمد علی مگسی سے رابطہ کر کے سے 19 لاکھ روپے ادا کئے اور پولیس میں میرے ہی خلاف مقدمہ دائر کردیا ۔ مقدمے میں یہ دعویٰ کیا کہ میں نے اس کے پیسے دینے ہیں ۔

یہ بالکل غلط بات تھی ، پولیس نے میرے خلاف کاروائی شروع کی اور معاملہ عدالت تک یہ جا پہنچا ، اس وقت میرے لئے مشکل صورتحال بن گئی تھی کہ ایک جانب مجھے اپنی ، اپنے ہاتھوں کی ، مزدوروں کی حفاظت کرنی تھی دوسری جانب اپنے خلاف ہونے والے حالات کا مقابلہ کرنا تھا ۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کا دور تھا اور اس وقت اس کے پورٹل پر بھی اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی شکایتیں کیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ مقدمات کے حوالے سے عدالتوں میں اپنے والد صاحب ساتھ ہی جاتا تھا ، انہوں نے پورا ساتھ دیا ۔ دوسری جانب احمد علی مگسی کے میرے پاس مستقل فون آتے رہے اور وہ مجھ سے بھتے کا تقاضہ کرتا رہا ۔

شہر قائد میں بھتے کے حوالے سے آپ بھی جانتے ہیں ، کچھ بھتے براہ راست لئے جاتے ہیں اور کچھ سیاسی جماعتیں مذہب کے نام پر زکوۃ کے نام پر بھتے وصول کرتی ہیں ، خیر میں ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھا اور میں نے بھتہ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔

عدالتی کاروائی جاری تھی جج پر ہی واضح ہو گیا کہ میرا کاروباری ساتھی ہی میرے ساتھ زیادتی کر رہا ہے ، جج نے میرے حریف سے کہا کہ بہتر یہی ہے آپ زیادتی نہ کرو اور دونوں مل کر آپس میں فیصلہ کر لو بصورت دیگر آپ ذمہ دار ہیں ۔

اس بات پر میرے کاروباری ساتھی نے مجھ سے معذرت کی میرے والد صاحب سے بھی معذرت کی اور کہا کہ ہم آپس میں معاملہ طے کر لیتے ہیں اور مقدمے کو یہیں ختم کر دیتے ہیں ۔ ہوں وہ مقدمہ وہیں ختم ہو گیا اور ہم وہاں عدالت سے ہم نکلے ، مگسی کے کارندے ہماری تلاش میں تھے اور انہیں بھی ہمارے کورٹ سے جانے کی اطلاع مل گئی تھی ۔

اپنے والد صاحب کو کے گھر کی جانب آرہے تھے ، مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ مگسی کے کارندے ہمارا پیچھا کر رہے ہیں ، مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے جب صدر پہنچے تھے ۔

قدرے خاموشی کے بعد شاہ رخ نے لمبی سانس لی اور کہا کہ وہ تین اگست 2021 کی کا دن تھا اور اسی روز مگسی کے لوگ ہمارے تعاقب میں جب ریگل چوک پہنچے تو ان بندوں نے ہم پر حملہ کر دیا ، میرے والد صاحب کو پہلے گولیاں ماریں اور پھر مجھے بھی گولیاں ماری گئیں ، اپنے طور پر وہ ہمیں مردہ سمجھ کر کے چلے گئے لیکن زندگی اللہ نے جتنی لکھ رکھی ہے انسان کو وہ زندگی اتنی ہی پوری کرنی ہوتی ہے ۔

ہمیں وہاں سے عام لوگوں نے سول ہسپتال پہنچایا اور سول ہسپتال میں ڈاکٹرز نے ہمارا معائنہ کرنے کے بعد میرے احباب رشتہ داروں سے کہا کہ اس کی طبیعت خراب ہے اس کی آنکھیں ضائع ہو گئی ہیں اور اس کے والد کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ پھر میرے عزیز و اقارب مجھے اسٹیڈیم کے قریب واقع آغا خان ہسپتال لے آئے۔

حفیظ خٹک کے گزشتہ کالمز پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس ہسپتال میں آنکھوں کے سرجن سمیت پانچ دیگر ڈاکٹرز نے طویل عرصہ میرا علاج کیا ، میرے عزیز رشتہ داروں نے میرا خرچہ اٹھایا گو کہ میرے کچھ عزیز و اقارب بیرون ملک مقیم ہیں لیکن انہوں نے ہمارا پوچھا تک نہیں کیا ، آغا خان ہسپتال سے مجھے چھٹی دے دی گئی اور اب صورتحال یہ ہے کہ میری دونوں آنکھیں کام نہیں کر رہی ہیں ۔

آغا خان ہسپتال سے رخصت ہونے کے بعد گھر آیا تو میری دونوں انکھیں ضائع ہو چکی تھیں اور میرا موبائل فون و دیگر کاغذات جو تھانے میں تھے میرے حوالے کر دیئے گئے ، گھر پہنچتے اور موبائل فون کھولتے ہی پہلی کال آئی احمد علی مگسی کی آئی ، فون سے قبل اس نے اک واٹس ایپ کیا تھا، دو تصویریں تھیں ایک پھولوں کے گلدستے کی اور دوسری گرنیڈ کی تصویر تھی فون اٹھاتے ہی اس نے کہا کہ خیریت کے ساتھ گھر آگئے ہو میں اب بھی کہتا ہوں کہ جو بھتا میں نے مانگا ہے وہ مجھے دے دو اگر نہیں دیا تو میں اس سے بھی برا حشر کروں گا ۔

اس کی یہ بات سن کر میں نے کہا کہ اس حال میں بھی اگر مجھے نہیں چھوڑو گے تو یہ ذہن میں رکھنا کہ میں ایک پیسہ بھی بھتے کی صورت میں نہیں دوں گا قرض لے کر میں نے اپنا علاج کروایا ہے ، یہ واضح طور پر بتا رہا ہوں کہ بھتہ نہ پہلے دیا تھا اور نہ اب دوں گا ۔

شاہ رخ نے قدرے خاموشی کے بعد کہا کہ میں نے اپنا وہ نمبر ہی بند کر دیا وہ سم بھی بلاک کر دی اور دوسرا نمبر لے لیا ۔ پی ائی بی کالونی کو چھوڑ کر کے سپر ہائی وے کے قریب رہائش پذیر اپنے سسرال منتقل ہو گیا ۔

خدا کے فضل و کرم سے دو بچیاں ہیں اور دو بہنیں ہیں ، والد صاحب ہم سے دور رہتے ہیں لیکن وہ اب بھی ہمارا خیال رکھے ہوئے ہیں ، اب بھی محنت کرتے ہیں جو بھی کماتے ہیں ہمیں بھی لا کر دیتے ہیں ۔

والد صاحب نے اک بار یہ کہا کہ آپ کے کاروباری ساتھی کو نہیں چھوڑوں گا ، جس پر میں نے کہا کہ اگر آپ نے اسے بدلہ لیا تو میرا اور آپ کا تعلق ختم ہو جائے گا ، اب اس شخص خلاف ہم نے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مقدمہ درج کردیا ہے اور وہ ہی اسے بدلہ لے گا ، بلکہ احمد علی مگسی اور کاروباری ساتھی کے خلاف ہم نے اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں درج کر دیا ہے اور اللہ بہترین منصف ہے ہمیں اس ہی سے اچھی امیدیں ہیں ۔

میرے اس سانحے کو چار سال ہو گئے ہیں ان چار سالوں میں میں بستر پر ہی زیادہ وقت رہا ہوں ، اس دوران میں نے کئی کورسس کئے ہیں اور اپنی زمہ داریاں نبھانے کی کوششیں کی ہیں ، اب بھی اچھے انداز میں اپنی زندگی کو آگے کی جانب لے کے بڑھ رہا ہوں ، فوڈز آف شاہ رخ کے نام سے اپنی زوجہ کے ساتھ مل کر کے ہم نے فوڈ سروس بھی شروع کی ۔

کامیابی کے ساتھ چلتی رہی بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ان کی پرورش بھی ہم اچھے انداز میں کر رہے ہیں ، میری آنکھوں کا علاج اب امریکہ سے براہ راست ہو رہا ہے ، اس حوالے سے میری یہ خواہش ہے کہ حکومت وقت مجھ پر توجہ دیں اور مجھے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کیلئے جو ضروریات ہیں ان ضروریات کو پورا کریں ، تاکہ میں اچھے انداز میں اپنی ذات سمیت اپنے بچوں کی پرورش کروں اور ملک و قوم کے لئے اچھے انداز میں خدمات سرانجام دوں ۔

وطن عزیز میں گو کے ایسے واقعات اور سانحات ہوتے رہے ہیں تاہم جب سانحے کے بعد آپ کسی شخص کی بھی مدد کرتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف اس شخص کی زندگی پر آتے ہیں بلکہ اس سے معاشرے میں بھی مثبت سوچیں اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ شخص جو حادثات اور سانحات سے گذرا ہوا ہوتا ہے وہ عملی طور پر انسانیت کی خدمت کے لئے اچھے انداز میں کام کرتا ہے اس لئے میری آپ کے توسط سے حکومت وقت سے یہ درخواست ہے کہ میری صورتحال کو دیکھیں اور مجھے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی قوت اور طاقت اور ذرائع فراہم کریں تاکہ میں اپنی قوم کے لیے اچھے انداز میں خدمات سر انجام دوں ۔

احمد علی مگسی سمیت جتنے بھی ایسے لوگ جو انسانیت کے دشمن ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ ان کا اب کیا حال ہے تاہم ایسے لوگ جو منفی کردار کے حامل ہوتے ہیں حکومت وقت کا ذمہ داروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو پنپنے نہ دیں تاکہ ایسے لوگ منفی سرگرمیوں سے باز رہیں اور ملک کی حکومت و عوام مل کر کے وطن عزیز کی بہتری کے لئے اچھے انداز میں کام کریں ۔

شاہ رخ کی زبانی یہ ساری باتیں سننے کے بعد من و عن اس کی ساری داستان آپ سب کے سامنے رکھ دی ہے ، یقیناً ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں زندگی کی جانب واپس لایا جائے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی اپنی ذات سمیت وطن عزیز کے لیے ان کی خدمتوں کو ان کی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے آگے لایا جائے ۔

بھتہ خوری اور اس جیسے متعدد منفی سرگرمیاں آج بھی ہمارے معاشرے میں جاری ہیں ، ان کا تدارک ہونا چاہئے اور مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ، راستے دو ہی ہیں ایک مثبت اور دوسرا منفی ۔ دونوں راستوں کے اپنے اپنے انداز میں انجام ہیں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہمیں مثبت سرگرمیوں کی طرف آنا چاہئے اور ان کی ترویج کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ، اس کے عمل سے مثبت سرگرمیاں بڑھیں گی اور ملک کو قوم بہتر منظم انداز میں آگے بڑھے گا ۔

شہر قائد کا یہ شاہ رخ ایک شخص ہی نہیں اسی نوعیت کے اور بھی بہت سارے لوگ ہوں گے ، آج اگر اس ایک شاہ رخ کی حوصلہ افزائی کی جائے اس کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے تو یہ یقینا اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی کے مراحل سے آگے بڑھتا چلا جائے گا ۔ انشاءاللہ ۔ ۔ ۔

Related Posts