سندھ پبلک سروس کمیشن میں بھرتیوں پر سنگین سوالات؛ عدالت نے وضاحت مانگ لی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن کے کیسز سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کو نہ بھیجنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ایس پی ایس سی کی بھرتیوں پر سوالات اٹھ گئے جن میں سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کنٹریکٹ ملازمین مستقل کام کرسکیں گے؟

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہیڈ ماسٹرز کی ریگولرائزیشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ ریگولرائزیشن کے کیسز سندھ پبلک سروس کمیشن کو بھیجے جائیں۔ عدالت نے 3 ماہ میں درخواست گزاروں کے کیسز جائزہ لینے کیلئے سروس کمیشن کو بھیجنے کا حکم دے دیا۔

درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے ہدایت کی کہ ہیڈ ماسٹرز کو ان 3 ماہ کے دوران موجودہ عہدے پر برقرار رکھا جائے۔ ایس پی ایس سی درخواست گزاروں کی قابلیت اور بھرتی قوانین کے مطابق کیسز کا جائزہ لے۔ وکیلِ صفائی نے بتایا کہ ہیڈ ماسٹرز نے 2021 میں ریگولرائزیشن کیلئے درخواست دائر کی تھی۔

وکیلِ صفائی نے کہا کہ عدالت نے کیسز سندھ پبلک سروس کمیشن کو جائزے کیلئے ارسال کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایس پی ایس سی نے درخواست گزاروں کے کیسز وصول کرنے سے انکار کردیا۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ درخواست گزاروں کی سالانہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی گئی بھرتیاں عارضی تھیں۔ 937 امیدواروں میں سے 866 کی سروس فائلز ایس پی ایس سی کو ارسال کی گئی ہیں جبکہ درخواست گزار ازخود یہ عہدہ یا نوکری چھوڑچکے ہیں۔

سندھ حکومت کے ”روزگار کارڈ” کیلئے آن لائن اپلائی کا طریقہ کار جانئے

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سروس قوانین میں کنٹریکٹ ملازمت کی قانونی حیثیت نہیں۔ کنٹریکٹ پر ملازمین کی بھرتی پر اعلیٰ عدالتوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کن حالات میں یومیہ اجرت یا کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جاسکتا ہے۔ گریڈ1سے 15 کے ملازمین کی بھرتی کیلئے شفاف مسابقتی نظام ہونا چاہئے۔

سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ ایکٹ کے تحت ایس پی ایس سی کا کام سرکاری عہدوں کیلئے امتحان منعقد کرنا ہے۔ ایس پی ایس سی کے دائرہ کار میں کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن کا جائزہ لینا نہیں۔ صوبے میں گریڈ 17 کے ہیڈ ماسٹرز کی بھرتیاں کنٹریکٹ پر ہونا حیران کن ہے۔ ہیڈ ماسٹرز کی پوسٹ پر بھرتیاں مسابقتی امتحان یا ترقی کی بنیاد پر کی جانی چاہئیں۔

ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ ایس پی ایس سی کی موجودگی میں کنٹریکٹ پر بھرتیاں ناقابلِ فہم ہیں۔ کنٹریکٹ پر بھرتی ملازمین غیر معینہ مدت کیلئے کام نہیں کرسکتے۔

Related Posts