قازقستان خطے میں معاشی روابط اور گرم پانیوں تک رسائی کے اپنے دیرینہ خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور انداز میں سرگرم ہے تاہم پاکستان کی سست روی اس تاریخی موقع کو ضائع کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی تجارتی اور سفارتی وسعت میں غیر معمولی اضافہ کر سکتا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستیں تیزی سے جنوبی ایشیا کی طرف بڑھ رہی ہیں جبکہ اسلام آباد کی تاخیر اسے پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف کا وژن 22 ستمبر 2025 کو اسلام آباد میں قازق سفیر یرژان کسٹافن کی پریس کانفرنس میں نمایاں رہا۔ سفیر نے واضح کیا کہ صدر توقایف کا ایجنڈا ڈیجیٹل تبدیلی، تجارتی راہداریوں اور بین المذاہب مکالمے پر مبنی ہے، جو قازقستان کو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان پل بنانے میں مدد دے رہا ہے۔
صدر قاسم جومارت توقایف کو یوریشیا کے دوراندیش رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ وہ معیشتوں کو مسابقت کے بجائے تعاون سے جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا زور تجارتی راہداریوں کی تعمیر پر ہے جو نہ صرف گرم پانیوں تک رسائی کا خواب پورا کرے گا بلکہ خطے کی معیشتوں کو ایک دوسرے کے قریب بھی لائے گا۔
صدر قاسم جومارت توقایف کی 2025 کی اسٹیٹ آف دی نیشن تقریر میں ڈیجیٹل تبدیلی مرکزی نکتہ تھی۔ انہوں نے آئی ٹی سیکٹر کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مستقبل کی مسابقت کے لیے اہم ہے۔ اس سال پاکستان کا براہِ راست ذکر اس خطاب میں کیا گیا، جو تاریخ میں پہلی بار ہے۔ یہ اشارہ ہے کہ قازقستان اسلام آباد کو اپنی ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کی حکمت عملی کا اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔
اس وژن کو عملی تعاون میں بدلا جا رہا ہے۔ ستمبر میں اسلام آباد نے قازقستان پاکستان مشترکہ ورکنگ گروپ برائے آئی ٹی اور ڈیجیٹل کمیونیکیشنز کے پہلے بالمشافہ اجلاس کی میزبانی کی۔
قازق وزارت برائے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے عہدیداران اور نجی آئی ٹی کمپنیوں نے پاکستانی ٹیکنالوجی رہنماؤں سے براہِ راست ملاقات کی۔ سفیر کسٹافن نے اسے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تعلیم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں طویل مدتی تعاون کی بنیاد قرار دیا۔
صدر قاسم جومارت توقایف کے وژن کا دوسرا ستون علاقائی روابط ہے۔ ان کے اعلان کردہ تُرگُندی ہرات ریلوے منصوبے کا مقصد قازقستان کو پاکستان کی گوادر اور کراچی بندرگاہوں سے جوڑنا ہے۔ سفیر کسٹافن کے مطابق یہ منصوبہ خطے کی تجارت کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
اسی طرح ازبکستان افغانستان پاکستان ریلوے بھی آگے بڑھ رہا ہے، جو پاکستان کو وسطی ایشیا کے لیے مرکزی تجارتی دروازہ بنائے گا۔ یہ صرف ریل کی پٹریاں نہیں بلکہ خطے کی جغرافیائی اور معاشی تقدیر کو نئے سرے سے تراشنے کا منصوبہ ہے۔
اسی دوران قازقستان نے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر بھی اپنی حیثیت مستحکم کی ہے۔ رواں ماہ آستانہ میں مذاہب کے رہنماؤں کی 8ویں کانگریس منعقد ہوئی جس میں 100 سے زائد وفود شریک ہوئے۔
پاکستان نے بھی اس میں حصہ لیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک امن کے قیام میں مذاہب کے کردار کو اہم سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر پوپ لیو چہاردہم اور یروشلم کے پیٹریا رچ لیوپولڈ سوئم نے اپنے پیغامات میں مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے تناظر میں مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
اقتصادی میدان میں بھی پاکستان اور قازقستان کے تعلقات نئی بلندیوں پر ہیں۔ اپریل میں کراچی میں دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا بزنس فورم منعقد ہوا جس میں 500 سے زائد شرکا نے شرکت کی، جن میں 150 قازق نمائندے شامل تھے۔ ایک دن میں 200 ملین ڈالر کے تجارتی معاہدے طے پائے۔
اس کے علاوہ بین الحکومتی مشترکہ کمیشن کے 30ویں اجلاس میں تجارت، ثقافت، کھیل اور سرمایہ کاری سمیت کئی شعبوں میں معاہدے ہوئے۔ قازقستان کے فنڈ سمرک کزینا اور پاکستان کے فوجی فاؤنڈیشن کے درمیان مذاکرات نے اس شراکت داری کو ادارہ جاتی سطح پر بھی مضبوط کیا۔
آنے والے ہفتے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید پیش رفت لانے والے ہیں۔ صدر توقایف نومبر کے اوائل میں پاکستان کا تاریخی سرکاری دورہ کریں گے، جو دو دہائیوں بعد پہلا دورہ ہوگا۔
اس موقع پر ڈیجیٹل تعاون، توانائی، روابط اور ثقافتی تبادلے سے متعلق معاہدے متوقع ہیں۔ یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب قازق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مراد نُرتلیو اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ تعلقات غیر معمولی فوائد کے حامل ہیں۔ وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی، نئے تجارتی راستے اور ڈیجیٹل منصوبوں میں شمولیت پاکستان کی معیشت کو وسعت دیں گے۔ اس کے علاوہ قازقستان سے تعلقات اسلام آباد کو خارجہ پالیسی میں وسعت اور توازن فراہم کرتے ہیں۔
منیر احمد کی دیگر تحاریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
قازقستان کے لیے پاکستان جغرافیائی خوابوں کو حقیقت بنانے کا ذریعہ ہے۔ دہائیوں پرانا گرم پانیوں تک رسائی کا ہدف اب عملی منصوبوں کے ذریعے ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے ساتھ شراکت داری سے قازقستان نہ صرف تجارتی راستے حاصل کر رہا ہے بلکہ ایک ایسا ربط بھی قائم کر رہا ہے جو یوریشیا میں اس کی شناخت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
یہ غیر معمولی پیش رفت سفیر یرژان کسٹافن کی متحرک سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ ان کی 22 ستمبر کی پریس کانفرنس محض ایک اپ ڈیٹ نہیں بلکہ عملی منصوبوں کا واضح خاکہ تھی۔
انہوں نے جدید سفارت کاری کو محض رسمی تقاریر کے بجائے قابلِ عمل منصوبوں سے جوڑا۔ ان کی کاوشوں نے پاکستان قازقستان تعلقات کو علاقائی منظرنامے پر ایک حقیقی اور نتیجہ خیز شراکت داری میں بدل دیا ہے۔
جیسے جیسے دونوں ممالک صدر توقایف کے دورے کی تیاری کر رہے ہیں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب ان تعلقات کی کہانی امکانات سے نکل کر عملی پیش رفت میں داخل ہو چکی ہے۔ اور اگر سفارت کاری کا مقصد پائیدار پل بنانا ہے تو یرژان کسٹافن نے پاکستان میں اپنے کردار سے یہ ورثہ ضرور محفوظ کر لیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں