بھارتی ریاست کرناٹک میں غیرت اور ذات پات کے تعصب نے ایک بار پھر انسانیت کو شرمندہ کر دیا جہاں ایک سنگدل باپ نے دوسری ذات میں شادی کرنے کے جرم میں اپنی ہی حاملہ بیٹی کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔یہ افسوسناک واقعہ کرناٹک کے شہر ہبلی کے قریب پیش آیا جس نے پورے علاقے کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ 19 سالہ مانیا پاٹل اپنے گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سے محبت کی اور رواں سال مئی میں اس سے شادی کر لی تھی۔ یہ شادی اس کے والدین کی مرضی کے خلاف تھی جس کے باعث مانیا کو اپنے خاندان سے جان کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔
خطرات کے پیش نظر مانیا اپنے شوہر کے ہمراہ گاؤں چھوڑ کر تقریباً 100 کلومیٹر دور ہاویری ضلع میں رہائش پذیر ہو گئی تھی تاہم کچھ عرصے بعد جب حالات بہتر محسوس ہوئے تو وہ واپس اپنے آبائی گاؤں لوٹ آئی مگر یہ واپسی اس کی زندگی کی آخری ثابت ہوئی۔
پولیس کے مطابق مانیا کے والد پرکاش اندرونی طور پر بیٹی کی شادی پر شدید غصے میں تھا اور اتوار کی شام اس نے بیٹی اور اس کے سسرال والوں پر لوہے کے پائپوں اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ حملہ اس قدر شدید تھا کہ مانیا پاٹل کو جان لیوا زخم آئے اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی، حالانکہ وہ حاملہ بھی تھی۔
اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد گاؤں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت میں غیرت، ذات پات کے تعصب اور خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے جہاں اپنی پسند سے زندگی گزارنے کی قیمت آج بھی کئی خواتین کو جان دے کر چکانا پڑتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








