ہیٹ ویو بن سکتی ہے قاتل، برطانیہ میں 600 ہلاکتوں کا اندیشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

برطانیہ اس وقت غیر معمولی گرمی کی شدید لپیٹ میں ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ درجہ حرارت برقرار رہا تو چند دنوں میں 600 سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

ایمپیریل کالج لندن کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق جمعرات سے اتوار کے درمیان گرمی کی لہر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیق میں ملک بھر کے 34 ہزار مقامات سے حاصل کردہ کئی دہائیوں پر محیط ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے، جس سے پتا چلا ہے کہ اس درجے کی گرمی برطانیہ جیسے نسبتاً معتدل ملک کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

موسمیاتی صحت کی ماہر، ڈاکٹر لارا ہینڈرسن کہتی ہیں ہم اسے صرف ایک گرم ہفتہ سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ یہ ہیٹ ویو دراصل ایک صحت ایمرجنسی ہے، خاص طور پر بزرگ شہریوں اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد کے لیے۔

موسمیاتی سائنسدان، پروفیسر ایڈورڈ بلیک نے خبردار کیا کہ یہ برطانیہ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب گرمی سے اموات کا اتنا سنگین خطرہ سائنسی طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اگر حکومت اور عوام نے فوری اقدامات نہ کیے تو یہ صرف ایک انتباہ نہیں، ایک حقیقت بن جائے گا۔

نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نہ نکلیں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور بزرگ افراد پر خاص نظر رکھیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 37 ڈگری تک جا سکتا ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں یہ 32 ڈگری پر برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ جیسے ملک میں جہاں گھروں میں ایئر کنڈیشننگ عام نہیں، وہاں ہیٹ ویو کے اثرات کئی گنا زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔

Related Posts