کراچی میں شدید گرمی کی لہر اور ہیٹ ویو جیسی صورتحال کے باعث کم از کم آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں دو منشیات کے عادی افراد بھی شامل ہیں جبکہ متعدد افراد کو مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ کم از کم دو افراد کی موت ہیٹ اسٹروک کے باعث ہوئی۔ ایک 40 سے 42 سال کے درمیان عمر کا شخص جمالی پل کے قریب، ال عاصف علاقے میں شیل پٹرول پمپ کے پاس بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ علاج کے دوران جانبر نہ ہو سکا ابتدائی طور پر موت کی وجہ ہیٹ اسٹروک بتائی جا رہی ہے۔
ایک نامعلوم شخص کی لاش سپر مارکیٹ کے علاقے بوٹ بیسن کے قریب ملی جبکہ ایک اور لاش لیاقت آباد پل کے نیچے سے برآمد ہوئی۔ اسی طرح 50 سالہ مزدور در محمد کی لاش سرجانی ٹاؤن سے ملی جبکہ ایک اور نامعلوم لاش ڈیفنس فیز 8 خیابان سیف کے علاقے سے ملی۔ بلدیہ سپارکو روڈ کے قریب 55 سالہ عبدالوَدود کی لاش بھی برآمد ہوئی۔ اس کے علاوہ ایک اور منشیات کے عادی شخص کی لاش منگھوپیر سے ملی۔
ایک الگ واقعے میں دو نامعلوم افراد جن کی عمر تقریباً 35 سے 40 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے جھیل پارک کے قریب کوکونٹ پوائنٹ کے پاس سڑک کنارے بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے۔ دونوں افراد کو فوری طور پر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں ہنگامی طبی امداد دی جا رہی ہے۔
یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب محکمہ موسمیات نے کراچی میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو جیسی صورتحال کی رپورٹ جاری کی۔ شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت 43 ڈگری تک پہنچ گیا۔
اس وقت شہر میں انتہائی گرم اور خشک موسم جاری ہے جبکہ نمی کی سطح کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گئی ہے۔ شمال مغرب سے چلنے والی گرم ہوائیں جن کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہے حالات کو مزید سخت بنا رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








