دعا زہرہ کیس پر سندھ پولیس کے 30 لاکھ خرچ، سوشل میڈیا صارفین کا مزاحیہ ردعمل

تازہ ترین

تازہ ترین

دعازہرہ کیس پر سندھ پولیس کے 30 لاکھ خرچ، سوشل میڈیا صارفین کامزاحیہ ردعمل
دعازہرہ کیس پر سندھ پولیس کے 30 لاکھ خرچ، سوشل میڈیا صارفین کامزاحیہ ردعمل

کراچی: کراچی سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی دعا زہرہ کی گمشدگی کا کیس تقریباََ تین ماہ سے چل رہا ہے، جس کا ابھی تک کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔

حال ہی میں اس کیس سے متعلق اہم رپورٹ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق سندھ پولیس کے اب تک اس کیس پر 30 لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں، اِس رپورٹ کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین کا رپورٹ پر ردعمل سامنے آیا ہے، آیئے اُن کے تبصروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

Surprising Huge Expense Of Sindh Police On Dua Zehra Case

Surprising Huge Expense Of Sindh Police On Dua Zehra Case

Surprising Huge Expense Of Sindh Police On Dua Zehra Case

Surprising Huge Expense Of Sindh Police On Dua Zehra Case

مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے دعا زہرہ کی عمر سے متعلق میڈیکل رپورٹس سلسلہ وار ٹوئٹس میں شیئر کیں، جس میں انہوں نے اِس بات کی تصدیق کی کہ بچی کی عمر 14 سال ہے اور اُس کی پرانی میڈیکل رپورٹ جھوٹی تھی جس میں اُس کی عمر 17 سال بتائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بشریٰ اقبال نے مرحوم عامر لیاقت کی خوبصورت ویڈیو شیئر کردی

جبران ناصر نے ٹوئٹ میں کہا کہ دعا زہر ہ کی عمر نےاِس حقیقت سے پردہ اُٹھادیا ہے کہ اُس کا اغوا کیا گیا تھا لہٰذا اُس کی فوری طور پربازیابی کروانی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اے جی سندھ نے ہائی کورٹ کو کیسے بتایا کہ اغوا کا کوئی کیس نہیں بنتا۔ پولیس نے لڑکی کے بیان پر انحصار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اغوا کا کوئی مقدمہ نہیں بنتا، لڑکی نے بار بار معزز عدالتوں کو بتایا کہ اس کی عمر 18 سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ ثابت ہو گیا ہے کہ تمام بیانات جھوٹے اور من گھڑت تھے۔

مہدی کاظمی کے وکیل کا کہنا ہے کہ نئی عمر کے تعین کا مطلب ہے کہ اس معاملے میں اغوا، کم سن بچوں کی شادی، اور جنسی جرائم کے جرائم کی تمام دفعات لاگو ہوتی ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر محکمہ داخلہ سندھ نے 10 رکنی میڈیکل بورڈ بنایا تھا اور میڈیکل کے لیے دعا زہرا کو پولیس کی خصوصی ٹیم ایک دن کے لیے لاہور سے کراچی لائی تھی۔

میڈیکل بورڈ کے مطابق دعا زہرا کی عمر کے تعین کے لیے بتیسی، کلائی اور کہنی کے ایکسرے کیے گئے تھے۔

Related Posts