علی سفینہ کا پاکستانی ڈراموں کے مصنفین سے متعلق اہم انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکار و میزبان علی سفینہ نے پاکستانی ڈراموں کے مصنفین سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔

حال ہی میں علی سفینہ نے ایک پروگرام میں شرکت کی، جس میں انہوں نے ڈرامہ انڈسٹری کے حوالے سے کھل کر بات کرتے ہوئے انڈسٹری میں مایا ناز ڈرامہ نگاروں کی کمی اور بہترین ڈرامہ نگاروں کی کم قدری کا شکوہ کیا۔

انہوں نے دوران شو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں ڈرامہ نگاروں کو اچھا معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا، ڈراموں کی کہانیوں پر کام نہیں کیا جاتا اور نہ ہی انہیں وقت دیا جاتا ہے۔

علی سفینہ کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے یہ روش اپنالی گئی ہے کہ ڈرامے صرف خواتین یا پھر نوجوان نسل کے لئے ہی بنائے جارہے ہیں کیونکہ ان ہی سے ریٹنگ آتی ہے، ہمارے ڈرامے مقصدیت کھو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

بالی ووڈ فلم ’ستیا پریم کی کتھا‘ کیلئے ’پسوڑی‘ کو دوبارہ تیار کیا جائیگا

انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈرامہ رائٹرز کی ٹیم اکثر و بیشتر پرانے ڈراموں میں ہی کرداروں کے نام اور کچھ تبدیلیاں کرکے دوبارہ پیش کردیتے ہیں اور جب اسکرپٹ فنکاروں کے ہاتھ میں آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ تو جانا پہچانا ہے۔

علی سفینہ نے یہ بھی بتایا کہ کچھ پروڈکشن ہاؤسز کی جانب سے بھی وقت کی کمی کا دباؤ ہوتا ہے اکثر ڈرامہ نگار ڈرامے کی 7 یا 8 اقساط بھجواتے ہیں اور وہی پڑھ کر شوٹنگ شروع کر دی جاتی ہے، آگے جاکر پتا چلتا ہے کہ کہانی کس رخ جارہی ہے اور اس وقت کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

Related Posts