بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں 28 سالہ لڑکی پِنکی شرما نے ایک حیران کن اور غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے بھگوان شری کرشن کی مورتی سے شادی کر لی۔ اس نے روایتی انسانی رشتے کے بجائے خود کو براہِ راست خدا کے عشق کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔
شادی کی تقریب پورے گاؤں کے سامنے روایتی ہندو رسوم کے مطابق منعقد ہوئی۔ بارات میں نہ کوئی دولہا تھا اور نہ ہی کوئی گھوڑا بلکہ کرشن جی کی مورتی کو باضابطہ دولہا بنا کر لایا گیا۔ مورتی پر ہار ڈالے گئے، ماتھے پر سندور لگایا گیا اور سات پھیرے لیے گئے۔اس غیر روایتی شادی نے بھارت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ فیصلہ کیوں؟ عقیدت یا روحانی وابستگی؟
پِنکی شرما کے مطابق ان کی زندگی مکمل طور پر عقیدت اور بھگتی سے وابستہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی حقیقی خوشی دنیاوی رشتوں میں نہیں بلکہ خدا کی محبت اور عبادت میں ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ان کی خواہش ہمیشہ یہی رہی کہ وہ اپنی زندگی بھگوان کرشن کے نام کر دیں۔
پنکی شرما کے خاندان نے بھی اس فیصلے کو قبول کیا۔ پِنکی کے والد کے مطابق جب بھی اس کے لیے کوئی رشتہ تجویز کیا جاتا وہ یہی جواب دیتی تھی کہ میری شادی تب ہوگی جب بھگوان چاہیں گے اور وہی میرے دولہا ہیں۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردِ عمل
اس انوکھی شادی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا وائرل ہونے کے بعد ایک شدید بحث چھڑ گئی۔کچھ لوگ اسے عقیدت اور شخصی آزادی کا اظہار کہہ رہے ہیں جبکہ بہت سے افراد اسے انتہا پسندی، ذہنی دباؤ یا غیر معمولی رویہ قرار دے رہے ہیں۔
کئی لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ روایت اور سماجی اصولوں سے انحراف نہیں؟ کیا شادی صرف انسانی تعلق ہے یا مذہبی عقیدت کا اظہار بھی ہو سکتی ہے؟
مذہبی حلقوں میں بھی اس عمل پر مختلف رائے سامنے آئی ہیں۔ کچھ اسے روحانی محبت کا اظہار کہتے ہیں جبکہ بعض اسے مضحکہ خیز اور حد سے بڑھی ہوئی عقیدت قرار دیتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








