بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے شہر رائچوٹی میں شدید بارش کے بعد نالوں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنے کے باعث چھ سالہ الیاس نامی بچہ کھیلتے ہوئے پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گیا اور جب ماں نے یہ منظر دیکھا تو فوراً بیٹے کو بچانے کے لیے نالے میں کود پڑی تاہم بدقسمتی سے وہ بھی پانی کی تیز موجوں کی نذر ہوگئی۔
اسی دوران وہاں موجود ایک 30 سالہ ہندو نوجوان گنیش نے یہ دلخراش منظر دیکھا تو وہ بھی تڑپ اٹھا۔ اس نے بغیر سوچے سمجھے دونوں کی مدد کے لیے پانی میں چھلانگ لگا دی، لیکن وہ بھی بہاؤ کا مقابلہ نہ کر سکا اور ڈوب گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائی کرتے ہوئے تینوں کی لاشیں کلیان منڈپم کے قریب نہر سے نکال لیں۔
یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ انسانیت، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک زندہ مثال بن گیا۔ گنیش نے ایک مسلمان ماں اور بچے کو بچانے کے لیے اپنی جان قربان کر دی اور یہ دکھا دیا کہ انسانیت کا جذبہ کسی مذہب کا محتاج نہیں ہوتا۔
مسلمانوں کا مودی کو دوٹوک پیغام؛ کانپور سے لکھنو تک ‘مجھے محمد ﷺ سے پیار ہے’ کی گونج
واقعے کے بعد رائچوٹی شہر اور آس پاس کے علاقوں میں فضا سوگوار ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی گنیش کے اس جذبے کو خوب سراہا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








