بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں ایک کم عمر بچے کے خلاف صرف یہ پوسٹر لگانے پر ایف آئی آر درج کی گئی جس پر لکھا تھا “مجھے محمد ﷺ سے پیار ہے۔اس واقعے نے پورے بھارت میں شدید ردِعمل کو جنم دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں مسلمان شہری سڑکوں پر نکل آئے۔
پولیس کے اس متنازع اقدام کے خلاف بھارت کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جن میں کانپور، لکھنو اور دیگر مقامات شامل ہیں۔ خاص طور پر لکھنو اسمبلی کے سامنے درجنوں مسلم خواتین نے پُرامن احتجاج کیا تاہم پولیس نے تمام خواتین کو حراست میں لے لیا۔
एक सच्चा मुसलमान गुनहगार तो हो सकता है लेकिन अपने नबी ﷺ की इज़्ज़त-ओ-नामूस का गद्दार नहीं हो सकता!
लब्बैक या रसूलअल्लाह ﷺ ❤#ILoveMuhammadﷺ pic.twitter.com/gOfXQHaDfD
— 🦋Alizeh_Azhari🦋 (@Alizeh__001) September 21, 2025
یہ واقعہ مذہبی آزادی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے اور اس کے بعد بھارت بھر میں “مجھے محمد ﷺ سے پیار ہے” (I Love Muhammad ﷺ) کے پوسٹرز اور بینرز کے ساتھ مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی یہی نعرہ ایک موثر آواز بن چکا ہے۔ #ILoveMuhammad ﷺ کا ہیش ٹیگ مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ حیران کن طور پر صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ کئی بھارتی ہندو صارفین بھی اظہارِ یکجہتی کرتے نظر آ رہے ہیں۔
भाईचारा ❤️#ILoveMuhammad#ILoveMuhammadﷺ pic.twitter.com/pH6seFOOxR
— Azam Khan ( 𝗽𝗮𝗿𝗼𝗱𝘆 ) (@Azam_khan022) September 21, 2025
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل کا نمائندہ ہندو لڑکی سے سوال کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں مجھے محمد ﷺ سے پیار ہے کہنا بھی بعض اوقات قانونی کارروائی کا باعث بن رہا ہے تو اس پر وہ لڑکی دو ٹوک انداز میں جواب دیتی ہے کہ اگر ایسا ہے تو مجھ پر بھی مقدمہ درج کیا جائے کیونکہ میں خود ایک پوسٹر کے ساتھ کھڑی ہوں جس پر لکھا ہے: “I Love Muhammad ﷺ”۔
صرف مسلم کا محمدﷺ پہ اجارہ تو نہیں؛ دیکھیں ہندو لڑکی کی عشق محمدی ﷺ سے لبریز ویڈیو
سوشل میڈیا صارفین اس اقدام کو آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ بچے کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائے اور پولیس کو اس اقدام پر جوابدہ بنایا جائے۔
یہ واقعہ بھارت میں بڑھتے ہوئے مذہبی تعصب اور اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں پر ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے جس کے اثرات ممکنہ طور پر طویل مدت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








