آسکر ایوارڈ یافتہ ہسپانوی اداکار جیویئر بارڈیم نے سان سیباسٹین فلم فیسٹیول کے دوران اسرائیلی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے اس پر غزہ میں “انسانیت کے خلاف جرائم” کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا اور بین الاقوامی احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
بارڈیم اس تقریب میں شریک تھے، جس میں انہیں 2023 کا ڈونوسٹیا ایوارڈ دیا گیا، جو گزشتہ سال امریکی اداکاروں کی ہڑتال کی وجہ سے انہیں نہ مل سکا تھا۔
اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران بارڈیم نے اسرائیل کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، اسے ملک کی تاریخ کی “سب سے زیادہ بنیاد پرست حکومت” قرار دیا اور غزہ میں اس کے اقدامات کی مذمت کی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، یہ خوفناک اور غیر انسانی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اسرائیلی حکومت اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ بنیاد پرست حکومت ہے۔
خوراک، پانی اور ادویات جیسے ضروری وسائل کی ناکہ بندی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیسیف کے مطابق یہ کارروائیاں “بچوں کے خلاف جنگ” کے مترادف ہیں اور کئی نسلوں کیلئے صدمے کا باعث ہیں۔
بارڈیم نے اس موقع پر امریکا، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے لیے اپنی “غیر مشروط حمایت” پر نظر ثانی کریں اور موقف میں تبدیلی لائیں۔
دی نو کنٹری فار اولڈ مین کے آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے بھی اپیل کی کہ وہ مظالم کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ معاشرے کی “اخلاقی ذمہ داری” ہے کہ وہ نا انصافی کے خلاف بات کرے، چاہے اس کے الفاظ فوری تبدیلی نہ لا سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








