بھارتی ریاست بہار میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں شوہر رات بھر بیوی کی لاش کے ساتھ بیٹھا رہا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ بھارت میں بسنے والے کروڑوں غریب عوام کی ترجمانی ہے جو مودی حکومت کے بے حس نظام کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 18 سالہ نوجوان راجہ کمار اپنی بیوی منیشا کے ہمراہ علاج کیلئے جی ایم سی ایچ ہسپتال پہنچا تھا، منیشا کو تپ دق اور فالج جیسی خطرناک بیماریاں تھیں جن کا علاج گزشتہ 1 ہفتے سے جاری تھا، لیکن 13اپریل کی رات کو 8 بجے کے قریب منیشا کی طبیعت بگڑ گئی۔
تمام تر کوششوں کے باوجود منیشا جانبر نہ ہوسکی اور ڈاکٹرز نے ان کو مردہ قرار دے دیا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک ہی لمحے میں راجہ کی دنیا اجڑ گئی، جو بے بسی کے عالم میں اپنی بیوی کی لاش گھر لے جانے کی کوشش کرنے لگا جبکہ اس کا گاؤں ہسپتال سے تقریباً 20کلومیٹر دور تھا۔
راجہ نے سرکاری ہیلپ لائن 102 پر کال کی اور ایمبولینس لانے کیلئے کہا لیکن پہلی کال پر بتایا گیا کہ گاڑی دستیاب نہیں، 2 گھنٹوں تک انتظار کریں لیکن کوئی ایمبولینس نہ پہنچنے پر راجہ نے دوبارہ کال کی۔ جواب ملا کہ ہسپتال میں صرف ایک ہی گاڑی ہے جو ابھی مصروف ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق رات کے 12بجے ہسپتال تقریباً خالی ہوگیا اور راجہ کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ اور وہ جواں سال بیوی کی لاش کو گھنٹون اسٹریچر پر پڑے ہوئے دیکھ کر ٹوٹ گیا۔ اس نے نجی ایمبولینس کا بندوبست کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا کرایہ اتنا زیادہ تھا کہ راجہ اس کا متحمل نہ ہوسکا۔
رپورٹ کے مطابق راجہ نے تنگ آ کر اپنی بیوی کی لاش کو ایک عام آٹو رکشہ میں رکھ کر گھر لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ راجہ کے والدین اس دنیا میں نہیں جو مزدوری کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا تھا، تاہم سرکاری سہولیات نہ ملنے پر راجہ کی دنیا ہی اجڑ گئی۔
یہ تکلیف دہ واقعہ بھارتی حکومت کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور انسانی تعمیر و ترقی کے وعدوں کی قلعی کھول دینے کے مترادف ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ غربت کے باعث بھارت کے بے شمار شہری ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن کا کوئی متوسط طبقے کا یا امیر شخص تصور تک نہیں کرسکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








