بھارتی دارالحکومت دہلی کے علاقے نہال وہار میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 25 سالہ خاتون نے اپنے 32 سالہ شوہر محمد شاہد کو قتل کردیا۔ اس نے نہ صرف قتل کیا بلکہ اسے خودکشی کا رنگ دینے کے لیے ڈرامائی انداز میں خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی۔ تفتیش کے دوران خاتون نے چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ اس نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ اس کا شوہر اس کی جنسی خواہشات پوری نہیں کر پا رہا تھا۔
خوفناک واقعہ گزشتہ اس وقت منظر عام پر آیا جب سنجے گاندھی میموریل اسپتال سے پولیس کو ایک پی سی آر کال موصول ہوئی۔ مقتول کے پیٹ پر تین گہرے زخم پائے گئے جو ابتدا میں خودکشی کا نتیجہ سمجھے گئے۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ شاہد نے قرض کی وجہ سے خود کو زخمی کیا لیکن پولیس کی گہری چھان بین نے اس کہانی کے تانے بانے بکھیر دیئے۔
تفتیش کے دوران خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے شوہر سے جنسی طور پر مطمئن نہیں تھی۔ اس نے الزام لگایا کہ شاہد آن لائن جوئے کی لت میں مبتلا تھا، جس کی وجہ سے وہ بھاری قرض میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ، خاتون نے یہ بھی کہا کہ شاہد کا بریلی میں رہنے والی اپنی کزن کے ساتھ ناجائز تعلق تھا، جو اس کے غصے کی ایک اور وجہ بنا۔
قتل کے بعد خاتون نے ثبوت مٹانے کی کوشش کی اس نے گولیاں کھائیں التی کی اور بے ہوش ہونے کا ناٹک کیا تاکہ واقعہ خودکشی کا شاخسانہ لگے لیکن پولیس نے اسکے بیانات میں تضادات پکڑ لیے۔ جب پولیس جائے وقوع پر پہنچی تو خاتون گھر کی صفائی کر چکی تھی جو اس کی جانب سے ثبوت چھپانے کی واضح کوشش تھی۔
پولیس نے اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایک ٹیم بریلی روانہ ہو چکی ہے تاکہ شاہد کی کزن سے پوچھ گچھ کی جا سکے اور قتل میں کسی تیسرے فریق کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو سکے۔ ڈی سی پی سچن شرما کے مطابق یہ کیس انتہائی حساس اور پیچیدہ ہے۔ خاتون نے اپنے آپ کو بے گناہ ظاہر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن فرانزک ٹیم اور ابتدائی میڈیکل رپورٹ نے اس کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








