پاکستان میں گھر خریدنا عام شہری کے لیے مزید مشکل ہو گیا ہے۔ عالمی آبادیاتی جائزے کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کا ہاؤسنگ افورڈیبلٹی انڈیکس 0.5 سے کم ہو کر 0.4 پر آ گیا ہے۔ اس کی وجہ جائیداد کی بڑھتی قیمتیں، مہنگے بینک قرضے اور گھروں کی شدید قلت بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس معاملے میں بھارت (0.8) اور بنگلہ دیش (0.7) سے بھی پیچھے ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ملک کو اس وقت تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی کا سامنا ہے۔
گزشتہ سیلابوں میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے جس سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائش کا مسئلہ اور بڑھ گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ معاشرتی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
رئیل اسٹیٹ کاروبار سے منسلک ماہرین کہ مہنگی زمین اور تعمیراتی لاگت نے عام پاکستانی کے لیے گھر لینا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت محفوظ علاقوں میں نئے شہر بسائے اور کم لاگت رہائشی منصوبے شروع کرے۔
اسٹیٹ بینک نے میرا گھر میرا آشیانہ پروگرام کے تحت 8 فیصد سود پر 35 لاکھ روپے تک کا قرض فراہم کرنے کی اسکیم متعارف کرائی ہے جبکہ پنجاب حکومت پہلے ہی زیرو مارک اپ اسکیم چلا رہی ہے۔
رئیل اسٹیٹ ماہر مونس اخلاص نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ قرض کی حد بڑھا کر شہری علاقوں کے متوسط طبقے کو بھی فائدہ پہنچانا چاہیے۔ ان کے مطابق جامع مالیاتی پالیسی سے رہائشی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ہاؤسنگ افورڈیبلٹی انڈیکس (Housing Affordability Index) کیا ہے؟
ہاؤسنگ افورڈیبلٹی انڈیکس (HAI) ایک اہم اقتصادی اشاریہ ہے جو یہ ماپتا ہے کہ ایک عام خاندان (میڈین انکم والا) ایک میڈین قیمت والے گھر کو خریدنے کے لیے اپنی آمدنی کے کتنے فیصد حصے کو ہاؤسنگ (مورگج ادائیگیوں، یوٹیلیٹی بلز وغیرہ) پر خرچ کر سکتا ہے۔
یہ انڈیکس ہاؤسنگ کی قابلِ رسائی (affordability) کو جانچتا ہے اور اسے مختلف ممالک اور علاقوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر اگر انڈیکس کی ویلیو 100 یا اس سے زیادہ ہو تو ہاؤسنگ قابلِ برداشت سمجھی جاتی ہے یعنی خاندان اپنی آمدنی کا 28-30% سے کم حصہ ہاؤسنگ پر خرچ کر سکتا ہے۔ اس سے کم ویلیو کا مطلب ہے کہ ہاؤسنگ مہنگی ہو گئی ہے اور عام لوگوں کے لیے دستیاب نہیں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








