سی پی او ملتان کا شروع کردہ منفرد اقدام ملتان شہر کی بھکاری خواتین کی زندگیوں میں انقلاب لا کر پورے ملک کے لیے ایک مثال بن رہا ہے۔
سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر نے خواتین بھکاریوں کے لیے ایک خاص اسکواڈ تشکیل دیا ہے، جس میں خواتین پولیس اہلکار شامل ہیں۔ یہ اسکواڈ بھکاری خواتین کو پکڑ کر بحالی سینٹر بھیجتا ہے، جہاں انہیں باعزت زندگی گزارنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
بھکاری خواتین کی بحالی کے اس مرکز میں خواتین بھکاریوں کو بتایا جاتا ہے کہ بھیک مانگنا ایک لعنت ہے اور روزگار حاصل کرنا اہم اور باعزت عمل ہے۔
سی پی او ملتان کے اس منفرد پروگرام کے نتیجے میں ملتان شہر سے اب تک درجن بھر خواتین بھکاریوں کو بحالی سینٹرز میں رکھا جا چکا ہے۔
یہ پروگرام کس قدر مفید ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں اس سینٹر سے تربیت یافتہ ایک سابق بھکاری خاتون نے سی پی او ملتان کو فون کیا اور بتایا کہ وہ اب باعزت زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ سی پی او نے خاتون سے پوچھا کہ وہ کون سا کام کرنا چاہتی ہیں۔ خاتون نے بتایا کہ وہ چوڑیاں بیچ کر اپنے بچوں کے لیے روزگار کمانا چاہتی ہیں اور اس کے لیے پیسے نہیں ہیں۔
سی پی او نے خاتون سے اس کی رہائش کا پتہ پوچھا اور فوری طور پر چوڑیوں کا انتظام کردیا اور ایک گاڑی بھر کر چوڑیوں کے ڈبے خاتون کے گھر پہنچا دیے گئے، جس کے بعد سابق بھکاری خاتون اب ایک کاروباری خاتون کے طور پر معروف ہوچکی ہے۔
اب یہ خاتون اپنے چوڑیوں کے اسٹال کے ساتھ سی پی او ملتان صادق ڈوگر کا ایک پورٹریٹ بھی سجا کر رکھتی ہے اور لوگ سی پی او کے اس پروگرام کی دل کھول کر تحسین کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








