شوگر کیسے آپ کے گردوں کو نقصان پہنچاتی ہے؟ ذیابیطس میں گردوں کی حفاظت کا طریقہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ONLINE

ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جو پورے جسم کے نظام پر اثر ڈالتی ہے اور سب سے زیادہ گردوں کو متاثر کرتی ہے۔

ڈاکٹر نازش عفان کا کہنا ہے کہ گردے جسم سے اضافی پانی اور فضلہ نکالنے کا کام کرتے ہیں لیکن جب خون میں شوگر کی سطح طویل مدت تک زیادہ رہتی ہے تو گردوں کے فلٹر نظام پر دباؤ بڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ متاثر ہونے لگتے ہیں۔

گردوں کو ذیابیطس سے نقصان کیسے پہنچتا ہے؟

1۔ خون کی نالیوں کا نقصان:
مسلسل زیادہ شوگر گردوں کے اندر چھوٹی نالیوں کو سخت اور موٹی کر دیتی ہے جو فضلے کو فلٹر کرتی ہیں۔ جب یہ فلٹر صحیح سے کام نہ کریں تو جسم میں اضافی پانی اور فضلہ جمع ہونے لگتا ہے اور یہ گردوں کی ابتدائی فلٹرنگ سسٹم کو نقصان پہنچاتا ہے۔

2۔ اعصاب کا نقصان:
بلڈ ویسلز اعصاب کو کمزور کر دیتے ہیں خاص طور پر وہ اعصاب جو مثانے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پیشاب کی روانی متاثر ہوتی ہے اور مثانے کا دباؤ گردوں تک پہنچ کر ان کے سیلز کو نقصان پہنچاتا ہے۔

3۔ پیشاب کی نالیوں کے مسائل:
ہائی شوگر کی وجہ سے پیشاب کی نالیوں میں انفیکشنز بڑھ جاتے ہیں۔ اگر یہ بار بار ہوں تو گردوں تک پہنچ کر مستقل نقصان کر سکتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو بار بار انفیکشنز ہونے کی صورت میں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

گردے متاثر ہونے کی علامات:
ابتدائی طور پر علامات کم محسوس ہوتی ہیں، لیکن بعد میں درج ذیل مسائل ظاہر ہو سکتے ہیں:

پیشاب کی مقدار میں کمی

پیروں یا آنکھوں کے نیچے سوجن

تھکن اور کمزوری

بھوک میں کمی

پیشاب میں جھاگ یا فومی اثر

گردوں کی حفاظت کے لیے اہم اقدامات
بلڈ شوگر کنٹرول، ہر کھانے کے بعد شوگر لیول چیک کریں۔ نارمل شوگر گردوں کے لیے محفوظ ہے۔

بلڈ پریشر کنٹرول، زیادہ بی پی گردوں کی نالیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ شوگر اور بی پی دونوں زیادہ ہوں تو نقصان دوگنا ہو جاتا ہے۔

پروٹین کا مناسب استعمال، ریڈ میٹ، پروسیسڈ میٹ، پروٹین پاؤڈر یا زیادہ پروٹین گردوں پر بوجھ ڈالتی ہیں۔ متوازن خوراک ضروری ہے۔

پانی کا مناسب استعمال، ہر 2سے 3 گھنٹے بعد پانی پئیں لیکن زیادہ پانی بھی گردوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

نمک کم کریں، زیادہ نمک بلڈ پریشر بڑھاتا ہے اور گردوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ پروسیسڈ فوڈز، چپس اور اچار سے پرہیز کریں۔

کولیسٹرول اور لپڈ کنٹرول، صحت مند چکنائی کھائیں اور ورزش کریں تاکہ خون کی نالیاں صاف رہیں اور گردوں تک خون کی روانی بہتر ہو۔

سگریٹ اور الکحل سے پرہیز، یہ دونوں گردوں کی خون کی روانی کم کرتے ہیں اور نقصان پہنچاتے ہیں۔

باقاعدہ چیک اپ ڈاکٹر سے باقاعدگی سے ملاقات کریں اور ہر 6 ماہ بعد ٹیسٹ کروائیں۔ یہ گردوں کی حفاظت کا سب سے آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔

گردوں کا نقصان عموماً خاموش ہوتا ہے اور تب ظاہر ہوتا ہے جب نقصان پہلے ہی ہو چکا ہو۔ اگر آپ اپنی شوگر، بلڈ پریشر اور طرز زندگی کو قابو میں رکھیں، تو گردے صحت مند رہ سکتے ہیں۔

Related Posts