ایل سلواڈور کے فلسطینی نژاد صدر نجیب ابوکیلہ نے دوسری مدت کیلئے صدارتی انتخاب 85 فیصد سے زائد ووٹوں کے ساتھ جیت کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
اپنی واضح کامیابی کا اعلان انہوں نے ایکس پر اپنی ایک ٹوئٹ میں کیا۔ دوسری مدت کیلئے صدر منتخب ہونے کے بعد وہ ایل سلواڈور کی سو سالہ تاریخ میں پہلے صدر بن گئے جو 5 سال کی دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے ہیں۔
یہ کرشمہ اور چمتکار کیسے رونما ہوا، اس کی کہانی پیچیدہ نہیں، عام سی ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے روایتی اور اسٹیٹس کو کی سیاست کو ترک کرکے تبدیلی کو محض نعرے کیلئے نہیں برتا، بلکہ عملا ملک کو بدلنے کی ٹھانی اور اس میں کامیابی حاصل کی۔
42 سالہ ابو کیلہ نے ایکس پر لکھا کہ اعداد و شمار کے مطابق ہم نے صدارتی انتخاب 85 فیصد سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ جیتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ان کی “نیو آئیڈیاز پارٹی” نے بھی 60 نشستوں کی قانون ساز کونسل کی 58 نشستیں جیتی ہیں، جو بجائے خود ایک بڑا ریکارڈ ہے۔
نجیب ابوکیلہ کی اس شاندار کامیابی پر ایل سلواڈور کے دارالحکومت سان سلواڈور میں ان کے حامیوں نے بڑے پیمانے پر آتش بازی کا مظاہرہ کرکے ان کی جیت کا جشن منایا۔
نجیب ابوکیلہ نے اپنے پانچ قابل ذکر حریفوں جن میں مارٹی نیشنل لبریشن فرنٹ اور نیشنل ریپبلکن کے امیدوار بھی شامل تھے، کے مقابلے میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔
نجیب ابو کیلہ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران اپنائی گئی کامیاب سیکورٹی پالیسی کے باعث مقبولیت حاصل کی۔ ان کے پہلے دور میں قتل و غارت میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کو بلا امتیاز گرفتار کرکے سزائیں دی گئی۔
ان گرفتاریوں کی وجہ سے ملک بھر میں قتل کی شرح میں تیزی سے کمی آئی اور 6.3 ملین کی آبادی والے ملک کو اس پالیسی نے تبدیل کرکے رکھ دیا جو کبھی دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا، اگرچہ انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان کی پالیسی پر بڑے پیمانے پر تنقید بھی کی۔
انتخابات کے ساتھ ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں نے ظاہر کیا کہ زیادہ تر ووٹر ابوکیلہ کو ان مجرمانہ گروہوں کو ختم کرنے میں ان کی کامیابی پر انعام دینے کے لیے تیار تھے جنہوں نے ایل سلواڈور میں زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔
ابوکیلہ 2019 میں پہلی بار اقتدار میں آئے، انہوں نے روایتی جماعتوں کو شکست دے کر ملک بھر میں راج کرنے والے گینگسٹرز کو ختم اور جمود کا شکار معیشت کی بحالی میں کامیابی حاصل کی۔
(یہ نیوز اسٹوری mmnews.tv نے پہلی بار 5 فروری 2024 کو شائع کی تھی، جب ایل سلواڈور میں صدارتی الیکشن ہوئے تھے۔ کہانی کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ شائع کیا گیا۔(
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








