امریکی مالیاتی جریدے فوربس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا کی مضبوط ہوتی معیشت، مستحکم کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ میں آئی پی اوز کی غیر معمولی سرگرمی نے ملک کے امیر ترین افراد کی دولت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی مالیاتی جریدے فوربس رپورٹ کے مطابق رواں سال ملائیشیا کے ارب پتیوں کی مجموعی دولت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں کرنسی (رنگٹ) کی قدر میں بہتری اور شیئر مارکیٹ میں نئی کمپنیوں کی تیزی سے فہرست بندی شامل ہیں جس نے سرمایہ کاروں کو بھرپور مواقع فراہم کیے اور کئی نئے کاروباری نام بھی نمایاں ہو کر سامنے آئے۔
فہرست میں ایک بار پھر سرفہرست معروف بزنس شخصیت Robert Kuok رہے جو طویل عرصے سے ملک کے امیر ترین فرد کی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے کاروباری اثاثے ہوٹلز، پام آئل، رئیل اسٹیٹ اور دیگر شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں جنہوں نے ان کی دولت میں مزید اضافہ کیا۔
دوسری پوزیشن پر Quek Leng Chan موجود ہیں جن کا کاروباری گروپ بینکاری، پراپرٹی اور دیگر اہم شعبوں میں سرگرم ہے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد سرمایہ کار خاص طور پر ریٹیل، صنعت اور مالیاتی شعبوں سے وابستہ افراد، حالیہ معاشی بہتری سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ملائیشیا کی آئی پی او مارکیٹ اس وقت خاصی متحرک ہے جہاں نئی کمپنیوں کی لسٹنگ نے سرمایہ کاروں کو نمایاں منافع دیا۔ اسی دوران مقامی کرنسی کی مضبوطی نے بیرونی دباؤ کے باوجود اثاثوں کی قدر کو سہارا دیا جس سے مجموعی دولت میں اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال کی فہرست نہ صرف پرانے کاروباری ناموں کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتی ہے بلکہ نئے سرمایہ کاروں کے ابھرنے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملائیشیا میں کاروباری مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں خاص طور پر ریٹیل اور ٹیکنالوجی کے شعبے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
یہ رپورٹ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عالمی معاشی دباؤ کے باوجود ملائیشیا کا کاروباری طبقہ نہ صرف مستحکم ہے بلکہ مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے جہاں بہتر مالیاتی حکمتِ عملی اور سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع نے دولت میں نمایاں اضافہ ممکن بنایا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








