انسانی زندگی کے آخری لمحات اور ان دنوں میں دیکھے جانے والے خواب طویل عرصے سے ایک پراسرار موضوع رہے ہیں، تاہم حالیہ سائنسی مطالعے نے اس راز کے کچھ پہلو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موت سے پہلے کئی افراد کو غیر معمولی اور اکثر ایک جیسے خواب اور مناظر دکھائی دیتے ہیں، جو انہیں حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔
اس نئی تحقیق کے مطابق یہ خواب محض اتفاق نہیں ہوتے بلکہ متعدد مریضوں نے تقریباً ملتے جلتے تجربات بیان کیے۔ اٹلی میں کی جانے والی اس سائنسی کاوش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے خواب مریضوں کے ذہنی سکون میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور آخری وقت میں انہیں ایک طرح کی تسلی فراہم کرتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کے ادارے ’ایزینڈا یو ایس ایل‘ سے وابستہ ماہرین نے اپنی نوعیت کا منفرد مطالعہ کیا، جس میں زندگی کے آخری مرحلے سے گزرنے والے مریضوں کے خوابوں اور مشاہدات کا تجزیہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے 239 طبی عملے، نرسوں اور ماہرِ نفسیات سے معلومات حاصل کی گئیں، جنہوں نے خود ان مریضوں کے تجربات سنے یا دیکھے تھے۔ اس تحقیق کے نتائج معروف جریدے ’ڈیتھ اسٹڈیز‘ میں شائع کیے گئے۔
مطالعے میں شامل متعدد مریضوں نے بتایا کہ انہوں نے خواب میں اپنے ایسے قریبی افراد کو دیکھا جو پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ ایک خاتون نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے مرحوم شوہر کو دیکھا جو انہیں اپنے ساتھ آنے کا کہہ رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ وہ ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایک اور شخص نے خود کو ایک روشن دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے محسوس کیا۔
کچھ مریضوں نے تیز روشنی، سیڑھیوں یا کھلے دروازوں جیسے مناظر بیان کیے، جنہیں انہوں نے نئی دنیا میں داخلے کی علامت قرار دیا۔ ایک مریض نے بتایا کہ اس نے ساحل سمندر پر ایک سفید گھوڑے کو تیزی سے دوڑتے دیکھا۔ یہ تمام مناظر ایک پرسکون اور مختلف ماحول کی جھلک پیش کرتے تھے۔
اگرچہ زیادہ تر خواب تسلی بخش تھے، تاہم چند افراد نے خوفناک مناظر بھی دیکھنے کی بات کی۔ بعض مریضوں کو ڈراؤنی شکلیں نظر آئیں، جبکہ ایک شخص نے کہا کہ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی خوفناک مخلوق اسے نیچے کی جانب کھینچ رہی ہو۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے خواب اندرونی خوف یا موت کو قبول نہ کرنے کی کیفیت کی عکاسی کر سکتے ہیں۔
تحقیق کی سربراہ ایلیسا رابٹی کا کہنا ہے کہ یہ خواب محض خیالی یا بے بنیاد نہیں ہوتے بلکہ یہ مریضوں کو ذہنی اور روحانی طور پر آخری مرحلے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ان مناظر سے مریض کو یہ احساس ملتا ہے کہ وہ تنہا نہیں، جس کے نتیجے میں اسے سکون حاصل ہوتا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے مریض ایسے تجربات بیان کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ لوگ انہیں غیر سنجیدہ سمجھیں گے، اس لیے طبی عملے کو چاہیے کہ وہ ان باتوں کو غور سے سنے۔ تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جو بیماری کے آخری مرحلے میں تھے، نہ کہ وہ جو کسی حادثے سے بچ نکلے ہوں، تاہم دونوں گروہوں کے تجربات میں حیران کن مماثلت دیکھی گئی۔
یہ مطالعہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ زندگی کے آخری لمحات میں انسانی دماغ خود کو تسلی دینے کا ایک قدرتی نظام رکھتا ہے، جو مریض کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ نفسیاتی سہارا ادویات سے ہٹ کر بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








