راجستھان کے بنسواڑہ میں ایک مسلمان لڑکی سکینہ جو اب مبینہ طور پر شیوانگی کے نام سے جانی جاتی ہیں نے ہندو لڑکے پرکھر تریدی کے ساتھ شادی کرنے کے لیے ہندو دھرم کو اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ جوڑے نے مقامی انتظامیہ کو خاندان سے ممکنہ خطرات سے حفاظت کی درخواست کی ہے تاہم اس کیس نے متعدد سوالات اٹھا دیئے ہیں کہ آیا یہ تبدیلی لڑکی کی اپنی مرضی سے ہوئی ہے یا اس کے پارٹنر کی طرف سے کوئی دباؤ یا مجبوری تھی؟
کیس کی تفصیلات اور شکوک و شبہات
مذہب کی تبدیلی کا اعلان: سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو اور پوسٹس کے مطابق سکینہ نے مذہب تبدیل کرکے شیوانگی کا نام اپنایا تاکہ وہ پرکھر تریدی کے ساتھ شادی کر سکیں۔ یہ اقدام بین المذاہب تعلقات کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں اکثر لڑکیوں پر سماجی یا ذاتی دباؤ ہوتا ہے خاص طور پر جب خاندان کی مخالفت شامل ہو۔
کیا یہ واقعی آزادانہ فیصلہ تھا، یا محبت کے نام پر مجبوری کا نتیجہ؟
ویڈیو کا تجزیہ؛ ویڈیو میں جوڑا پولیس کی نگرانی میں ایک سرکاری عمارت کی طرف جا رہا ہے جہاں لڑکی سیاہ جیکٹ اور سرخ شال میں ہے اور لڑکا سیاہ جیکٹ میں۔ یہ منظر حفاظت کی درخواست کو ظاہر کرتا ہے لیکن یہ بھی سوال اٹھاتا ہے کہ اگر یہ مرضی سے ہے تو اتنی حفاظت کی ضرورت کیوں پڑی؟ کیا خاندان کی مخالفت کے پیچھے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے یا یہ کیس ہندو نیشنلزم کے پروپیگنڈے کا حصہ ہے؟
Muslim girl Sakina, now Shivangi, embraced Sanatan Dharma to be with her Hindu partner Prakhar Trivedi in Banswara, Rajasthan.
The couple has approached the administration seeking support for their marriage and protection from the girl’s family. pic.twitter.com/JV9YQ3J0b3
— Team Hindu United (@TeamHinduUnited) November 23, 2025
انتظامیہ کی مداخلت: جوڑے نے قانونی مدد مانگی ہے جو انڈین آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مذہب تبدیل کرنے کی آزادی کی حمایت کرتا ہے تاہم ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ایسے کیسز میں اکثر ‘لو جہاد’ کے الزامات لگائے جاتے ہیں جب الٹا ہو لیکن یہاں خاموشی ہے۔ کیا یہ ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں؟
بھارت میں مسلمانوں کی مشکلات کی تصدیق
بھارت میں مسلمان برادری کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جو انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس سے ثابت ہوتے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کی 2025 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی کی حکومت میں مسلمانوں کے خلاف ڈسکریمینیشن، ڈیمولیشنز، اور ہنگاموں میں اضافہ ہوا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 2500 سے زیادہ مسلمانوں کو ‘آئی لو محمد’ کہنے پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑا جو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوف اور مارجنلائزیشن کی وجہ سے ہزاروں مسلمان ملک چھوڑ رہے ہیں جو بھارت کو مسلمان مائیگرنٹس کا دوسرا بڑا ذریعہ بنا رہا ہے۔
سی ایف آر کے بیک گراؤنڈر میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان کمیونٹیز کو دہائیوں سے ڈسکریمینیشن کا سامنا ہے، جو مودی کے دور میں مزید شدید ہو گئی ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں کشمیر حملے کے بعد ہزاروں مسلمانوں کی گرفتاریاں اور گھروں کی توڑ پھوڑ کا ذکر ہے۔
یہ کیس مذہبی آزادی اور بین المذاہب شادیوں کی بحث کو مزید گرم کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی مجبوری یا دباؤ تو نہیں تھا۔ انتظامیہ کی طرف سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








