قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2025 کی تیسری سہ ماہی میں 1.10 کھرب روپے ریکور کر کے قومی خزانے میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ یہ رقم پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 242 فیصد زیادہ ہے۔
نیب نے سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں مجموعی طور پر 1.65 کھرب روپے کی ریکوری کی ہے جس سے 17,194 افراد کو دھوکہ دہی کے مقدمات میں فائدہ پہنچا ہے۔
کراچی میں نیب نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مقدمے میں 2.8 ارب روپے مالیت کے دو قیمتی پلاٹس واپس کرا کر پورٹ کو دیے۔ اسی طرح، سکھر میں نیب نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی 361 ایکڑ غیر قانونی اراضی بھی واپس لے لی جس کی مالیت 2.5 ارب روپے ہے۔
نیب نے اس سہ ماہی میں 1.39 ملین ایکڑ مینگرو جنگلات کی اراضی بھی واگزار کرائی جس کی قیمت 1,104.97 ارب روپے بنتی ہے۔ اب تک جنگلات کی واگزار کی گئی اراضی کی مالیت 9.25 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
بلوچستان میں نیب نے 414,036 ایکڑ جنگلات کی اراضی 44.8 ارب روپے میں واپس کرائی جبکہ خیبر پختونخوا میں 3.2 ارب روپے مالیت کی غیر قانونی ریاستی اراضی واگزار کرا کر وزارت صنعت و پیداوار کو دی گئی۔
نیب نے عوامی دھوکہ دہی کے متاثرین کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں، جس میں B4U کیس کے 5008 متاثرین کو پہلی بار آن لائن رقم دی گئی تاکہ ان کے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








