سال 1972 میں اولمپک گیمز کے دوران میونخ میں فلسطینی مسلح تنظیم کے ہاتھوں اسرائیلی کھلاڑیوں پر حملے سے پہلے اسی سال فروری میں لفتھانسا کے بوئنگ 747 طیارے کے ہائی جیک ہونے سے مغربی جرمنی ہل گیا تھا۔
اس وقت جرمنی مشرقی اور مغربی جرمنی میں تقسیم تھا اور دونوں کے درمیان دیوار برلن حائل تھی۔ یہ دیوار نہ صرف جرمنی کو تقسیم کرکے دو ملک بناتی تھی بلکہ ایک ہی قوم کو دو مختلف نظریات میں بھی بانٹتی تھی۔ مشرقی جرمنی کمیونسٹ بلاک کا حصہ تھا، جبکہ مغربی جرمنی امریکا کے زیر قیادت مغربی بلاک میں شامل تھا۔ اسرائیلی کھلاڑیوں پر حملے کے ساتھ ہائی جیکنگ کا یہ واقعہ مغربی جرمنی کے طیارے کے ساتھ پیش آیا۔
العربیہ کی فیچر رپورٹ کے مطابق ہائی جیکنگ کی ذمہ داری پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین سے منسوب کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بعد میں اس طیارے کے مسافروں کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔ طیارے میں 170 سے زیادہ مسافر موجود تھے، آئیے جانتے ہیں لفتھانسا ایئر کا طیارہ کیسے ہائی جیک کیا گیا؟
[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxODM2MTgsInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE4MzYxOCAtINmB2YTYs9i324zZhtuMINis2KfZhtio2KfYstmI2rog2qnbjCDaqdin2YXbjNin2Kgg2KzZhtqv24wg2obYp9mE2YjauiDZhtuSINiv2YbbjNinINqp2Ygg2K3bjNix2KfZhiDaqdix2K/bjNinIiwidXJsIjoiIiwiaW1hZ2VfaWQiOjE4MzYxOSwiaW1hZ2VfdXJsIjoiaHR0cHM6Ly9tbW5ld3MudHYvdXJkdS93cC1jb250ZW50L3VwbG9hZHMvMjAyMy8xMi93YXQtdGFjdGljdHMtMzAweDI1MC5qcGciLCJ0aXRsZSI6ItmB2YTYs9i324zZhtuMINis2KfZhtio2KfYstmI2rog2qnbjCDaqdin2YXbjNin2Kgg2KzZhtqv24wg2obYp9mE2YjauiDZhtuSINiv2YbbjNinINqp2Ygg2K3bjNix2KfZhiDaqdix2K/bjNinIiwic3VtbWFyeSI6Iti62LLbgSDZvtixINin2LPYsdin2KbbjNmEINqp25Ig2YjYrdi024zYp9mG24Eg2K3ZhdmE2YjauiDaqdmIINiv2Ygg2YXYp9uBINiz25Ig2LLYp9im2K8g2LnYsdi124Eg24HZiNqv24zYpyDbgduS2Iwg2b7ZiNix25Ig2LrYstuBINqp2Ygg2qnavtmG2ojYsSDZhduM2rog2KrYqNiv24zZhCDaqdix2YbbkiDaqduSINio2KfZiNis2YjYryDYp9iz2LHYp9im24zZhCDYrdmF2KfYsyDaqdmIINiu2KrZhSDaqdix2LPaqdinINuB25Ig2KfZiNixINmG24Eg24HbjCDYp9m+2YbbkiDbjNix2LrZhdin2YTbjCDYtNuB2LHbjNmI2rog2KfZiNixINmB2YjYrNuM2YjauiDaqdinINiz2LHYp9i6INmE2q/YpyDYs9qp2Kcg24HbktuUINit2YXYp9izINin2YjYsSDYp9iz2YTYp9mF24wg2Kzbgdin2K8g2qnbkiDZhdmE2bnYsduMINmI2Ybar9iyINin2YTZgtiz2KfZhSDYqNix24zar9uM2ojYsiDYp9mI2LEg2KfZhNmC2K/YsyDYqNix24zar9uM2ojYsiDaqduSINis2Ybar9is2Ygg2KfYsyDYqtmF2KfZhSDYudix2LXbkiDZhduM2rog2KfYs9ix2KfYptuM2YQg2qnbjNmE2KbbkiDZhNmI24HbkiDaqduSINin24zYs9uSINqG2YbbkiDYq9in2KjYqiDbgdmI2q/YptuSINuB24zautiMINis2YbbgduM2rog2obYqNin2KrbkiDbgdmI2KbbkiDYp9iz2LHYp9im24zZhCDaqduSINiv2KfZhtm5INqp2r7ZuduSINuB2Yjahtqp25Ig24HbjNq625QgJm5ic3A7INiv2YbbjNinINio2r7YsSDaqduSINi52LPaqdix24wg2YXYp9uB2LHbjNmGINit24zYsdin2YYg24HbjNq6INqp24Eg2KfbjNqpINmF2K7Yqti12LEg2LPbkiDYudmE2KfZgtuSINmF24zauiDahtmG2K8g24HYstin2LEg2YbYs9io2KrYp9mLINi624zYsSDZhdmG2LjZhSDYrNmG2q/YrNmI2KTauiDZvtixINmF2LTYqtmF2YQuLi4iLCJ0ZW1wbGF0ZSI6InVzZV9kZWZhdWx0X2Zyb21fc2V0dGluZ3MifQ==”]
طیارہ کیسے ہائی جیک ہوا؟
یہ طیارہ فلائٹ 649 کے حصے کے طور پر کام کرتا تھا۔ طیارے نے ٹوکیو، ہانگ کانگ، بنکاک، نئی دہلی، ایتھنز اور فرینکفرٹ کے درمیان پرواز کر رکھی تھی۔ عام طور پر اس روٹ پر ہفتہ وار ایک پرواز ہوتی تھی۔ طیارے نے پیر کی شام کو ٹوکیو سے ٹیک آف کرنا تھا اور اگلی صبح فرینکفرٹ پہنچنا تھا۔
بھارت کے نئی دہلی ایئرپورٹ سے روانگی کے صرف آدھے گھنٹے بعد ہی جرمن بوئنگ 747 کو 22 فروری 1972 کو رات تقریباً ایک بجے ہائی جیک کر لیا گیا۔ ہائی جیکنگ کے وقت اس پرواز میں اسٹاف کے پندرہ افراد کے علاوہ 172 مسافر سوار تھے۔ طیارہ ابھی فضا میں تھا کہ ہتھیاروں سے لیس پاپولر لبریشن پارٹی آف فلسطین کے ہائی جیکروں نے طیارہ ہائی جیک کرنے کا اعلان کیا اور دھمکی دی کہ اگر ان کی شرائط پوری نہ کی گئیں تو طیارے کو اڑادیا جائے گا۔
آپریشن کے دوران اغوا کاروں نے اپنی ایک تنظیم سے وابستگی کا اعلان کیا۔ اس تنظیم کو انہوں نے صیہونی مزاحمتی تنظیم کا نام دیا تھا۔ دریں اثنا تحقیقات نے تصدیق کی کہ اغوا کاروں کو احکامات براہ راست پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین سے موصول ہوئے تھے۔
طیارہ صحرائے عرب میں اتارنے کی کوشش
پہلے تو ہائی جیکروں نے طیارے کو صحرائے عرب کی ریت پر اتارنے کی کوشش کی، تاہم جہاز کے عملے کے ساتھ اس آپریشن کی خطرناکی سمجھتے ہوئے ہائی جیکروں نے جنوبی یمن کے عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف جانے کو ترجیح دی۔ عدن ایئرپورٹ پر ہائی جیکرز نے مسافروں میں شامل تمام خواتین اور بچوں کو رہا کر دیا۔
سنسنی خیز لمحات
طیارہ ہائی جیک ہونے کے چند گھنٹے بعد لفتھانسا کے دفتر کو اغوا کاروں کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں ان سے تقریباً 5 ملین ڈالر کا تاوان ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ رقم ادا کرنے کے لیے بیروت کو منتخب کیا گیا۔
تاوان کی ادائی
مطالبہ سامنے آتے ہی مغربی جرمنی نے بغیر کسی چوں چرا کے اسے براہ راست تسلیم کر لیا اور مطلوبہ تاوان کی رقم ادا کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ یہ بات سنتے ہی اگلے روز پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین سے تعلق رکھنے والے اغوا کاروں نے مغوی افراد کو رہا کر دیا۔
اگلے دنوں کے دوران طیارہ ہائی جیکنگ کے واقعے نے پوری دنیا میں عدم اطمینان کی کیفیت پیدا کردی کیونکہ بہت سے لوگوں نے ہوائی اڈے کی حفاظت اور طیاروں پر ہتھیار لانے کی آسانی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
اس واقعے کے کئی سال بعد رپورٹس سامنے آئیں کہ پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین نے تل ابیب کے لُد ایئرپورٹ پر قتل عام کے لیے جرمنی سے حاصل کی گئی رقم سے تقریباً ایک ملین ڈالر کی رقم استعمال کی۔ لُد ایئرپورٹ پر کارروائی میں 26 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








