لبنان میں شہریوں کو 80,000 اسرائیلی دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے سے خوف و ہراس پھیل گيا۔
لبنان کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو فون پر مخصوص ایڈریس سے پیغامات موصول ہوئے ہیں، جس میں انہیں علاقہ چھوڑنے کی وارننگ دی گئی ہے۔
العربیہ نے رپورٹ کیا ہے کہ پیغام میں انتباہ کیا گیا کہ “آپ ایک ایسی عمارت میں ہیں جس میں حزب اللہ کے ہتھیار موجود ہیں اگلی اطلاع تک گاؤں سے دور رہیں۔”
شہریوں کا کہنا ہے نے کہ یہ پیغامات اسرائیل کی طرف سے آئے تھے۔ بعض پیغامات ٹیکسٹ یا صوتی پیغامات کے طور پر موصول ہوئے۔
لبنانی وزیر اطلاعات زیاد الماکری کے دفتر کو بھی ایسی ہی فون کال موصول ہوئی، جس میں ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں ان سے عمارت کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقامی ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ پیغام اسرائیل کی جانب سے بھیجے گئے۔
ایسا ہی پیغام اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شائع کیا۔ جس میں لبنان کے دیہات سے لوگوں کو نکلنے کے لیے کہا گیا۔ پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ “جو کوئی بھی حزب اللہ کے ارکان یا ان کے ہتھیاروں کے قریب ہے وہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈالتا ہے۔”
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ پیغامات جاسوسی کے مقصد سے آتے ہیں، یعنی اسرائیل آبادی کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے تاکہ حزب اللہ کے لوگوں کا سراغ لگایا جاسکے۔
اسرائیلی فوج نے دھمکیاں بھی جاری کیں کہ وہ عراق، یمن اور ایران سمیت تمام محاذوں پر کام کر رہی ہے۔ فوج کے ترجمان دانیال ہگاری نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اسرائیل حزب اللہ پر بڑا حملہ کرے گا اور اس کی طاقت کو کم کرنے اور اسے سرحدوں سے ہٹانے کے لیے کام کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حزب اللہ شہریوں کے گھروں کے اندر کروز میزائل (درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل) چھپا رہی ہے۔”
انہوں نے جنوبی لبنان کے شہریوں کو حزب اللہ کے ٹھکانوں سے دور رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ حملے “مستقبل قریب میں جاری رہیں گے۔”
لبنان میں زمینی دراندازی کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ “ہم جو بھی ضروری ہو گا کریں گے۔”
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








