کتنی لاشیں برآمد ہوئیں اور کتنے مکانات تباہ؟ صوابی میں کلاوڈ برسٹ سے نقصانات کی تفصیل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

خیبر پختونخوا کے شہر صوابی میں پیر کے روز شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی جہاں کئی مکانات منہدم ہو گئے اور درجنوں افراد سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔

اطلاعات کے مطابق علاقے میں اچانک ہونے والی موسلا دھار بارش اور بادل پھٹنے (کلاوڈ برسٹ) کے باعث متعدد گھروں میں پانی داخل ہو گیا جبکہ بعض مکمل طور پر گر گئے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف گدون دلوری میں اب تک 8 مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں اور درجنوں افراد لاپتا ہیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک ملبے سے 9 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 15 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور مقامی رضاکار بھی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ شریک ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق 90 اہلکار، 13 ایمبولینسز، 3 ڈیزاسٹر ریسپانس وہیکلز، ایک واٹر باؤزر، 3 پک اپ گاڑیاں، 2 واٹر ریسکیو یونٹس اور ایک ریکوری وہیکل امدادی مشن میں شامل ہیں۔

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے (صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کے مطابق صوبے میں جمعرات سے شروع ہونے والی بارشوں میں اب تک 340 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ نئے سسٹم کے بعد مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

تازہ بارشوں کے بعد کچھ علاقوں میں امدادی کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے تاہم ریسکیو اہلکار اور رضاکار لاپتا افراد کو تلاش کرنے اور ممکنہ طور پر زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

Related Posts