اردن میں جاری ایشین اوپن جوڈو چیمپئن شپ میں پاکستان کی نوجوان کھلاڑی ملائیکہ نور نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔
ملائیکہ نور نے مائنس 52 کلوگرام کیٹیگری میں حصہ لیا جہاں وہ شاندار فائٹس جیت کر فائنل تک پہنچیں۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے دوران تین مختلف ممالک کی حریفوں کو شکست دے کر اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
فائنل میں ان کا مقابلہ سعودی عرب کی جوڈو پلیئر سے ہوا جہاں سخت مقابلے کے بعد انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے باوجود ملائیکہ نے پاکستان کے لیے سلور میڈل حاصل کیا جو ملک کے لیے ایک قابلِ فخر کارنامہ ہے۔
یہ کارنامہ نہ صرف ملائیکہ کے لیے بلکہ پاکستان میں خواتین کھیلوں خاص طور پر مارشل آرٹس اور کانٹیکٹ سپورٹس کے شعبے میں بھی ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ ان کی کامیابی ملک بھر کی نوجوان خواتین کھلاڑیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال بن چکی ہے۔
ملائیکہ نے 2024 میں دوشنبے میں ورلڈ جونیئر جوڈو چیمپئن شپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی تھی اور اس کے بعد سے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر ملک کی ایک ابھرتی ہوئی جوڈو اسٹار کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔
پاکستان جوڈو فیڈریشن کے صدر کرنل جنید عالم نے ملائیکہ کی کامیابی کو ملک کے لیے باعث فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے روشنی کی کرن ہے اور مستقبل کے کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی۔
دیگر پاکستانی جوڈو کھلاڑیوں کی کارکردگی
ملائیکہ کے علاوہ دیگر پاکستانی کھلاڑیوں نے بھی عمان میں ہونے والی اس چیمپئن شپ میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ 18 سالہ نور خان جو بلوچستان اور پاکستان نیوی کی نمائندگی کر رہے تھے، 60 کلوگرام کی کیٹیگری میں پہلے راؤنڈ میں اردنی کھلاڑی کو ہرا کر اگلے مرحلے میں پہنچے مگر بعد میں برونڈی کے کھلاڑی کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کے 17 سالہ نوجوان کھلاڑی نے بھی پہلی جیت حاصل کی، لیکن بعد کے راؤنڈ میں بحرین کے کھلاڑی سے ہار گئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








