کراچی میں شہری انتظامیہ کی لاپروائی پھر ایک معصوم جان نگل گئی۔ کورنگی کے علاقے مہران ٹاؤن میں کھیلتے ہوئے آٹھ سالہ دلبر علی کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد شہر میں بلدیاتی نظام پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق دلبر علی محلے کے دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک سڑک پر موجود بغیر ڈھکن کے مین ہول کے قریب پہنچ گیا۔ توازن برقرار نہ رہنے کے باعث وہ گہرے گٹر میں جا گرا۔ اہلِ علاقہ نے فوری طور پر بچے کو نکالنے کی کوشش کی اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دی تاہم امدادی کارروائی میں تاخیر کے باعث بچے کی جان نہ بچائی جا سکی۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ مہران ٹاؤن سمیت اطراف کے علاقوں میں کھلے مین ہولز کا مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہے۔ متعدد بار شکایات درج کروانے کے باوجود نہ تو ڈھکن لگائے گئے اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی عمل میں آئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور شہری انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
اہلِ علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں کھلے مین ہولز کو فوری طور پر بند کیا جائے اور اس سانحے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اس طرح کے المیے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا جبکہ بچے کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
یاد رہے کہ کراچی میں کھلے مین ہولز کے باعث معصوم بچوں کی ہلاکت کے واقعات کوئی نئے نہیں۔ رواں ماہ دسمبر کے آغاز میں نیپا چورنگی کے قریب ایک شاپنگ مال کے سامنے کھلے مین ہول میں گر کر تین سالہ ابراہیم بھی جاں بحق ہو گیا تھا۔ اس کے بعد بھی ایسے مزید واقعات سامنے آئے، تاہم تاحال میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، وزیر بلدیات سندھ اور صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کے بجائے سیاسی بیان بازی ہی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








